مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:16
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہکراچی: شاہین فورس سے مقابلے میں ہلاک 4 ڈاکوؤں کی شناخت مکملریپ کیس: ملزم کے خاندان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو کروڑوں کی پیشکش کا انکشافٹک ٹاکر سامیہ مبارک کو پروٹوکول دینے پر ایس ایچ او ڈیفنس بی سمیت 3 اہلکار معطلصدر آصف علی زرداری کا دورہ جرمنی: گارڈ آف آنر پیش، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیالوفاقی حکومت کی جانب سے اہم افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریوزیراعظم شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت کے عزم کا اعادہپنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد، 10 کلو کا تھیلا دستیاب ہوگابلوچستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیپاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، ورلڈ بینک کی تشویشناک رپورٹ
پاکستان بریکنگ نیوز

پنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہ

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کیس میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات شامل ہیں، ملزمان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

پنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہ

لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کیس کو خود آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب متاثرہ خاتون نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا اور دیگر ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔ خاتون نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی اور وہ اس معاملے کو مزید نہیں بڑھانا چاہتیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں صرف زیادتی ہی نہیں بلکہ اغوا اور ڈکیتی کی سنگین دفعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے بیان کے باوجود ملزمان کا قانونی گرفت سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔

عظمیٰ بخاری نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت کو اس کیس سے متعلق جج کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت لینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز اس معاملے پر چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی یا بدمعاشی کے کلچر کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔

حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ اگر اس کیس کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام یا قوانین میں بہتری کی ضرورت پڑی تو حکومت اس پر فوری کام کرے گی۔ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ آذربائیجان واپس نہیں جانا چاہتیں اور حکام سے درخواست کی ہے کہ انہیں کسی تیسرے ملک بھجوا دیا جائے۔ اس حوالے سے آذربائیجان کے سفارت خانے کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور حکومتی مداخلت کے بعد اب قانونی کارروائی کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے۔

یاد رہے کہ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں کافی تشویش پیدا کر دی تھی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے فوری نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس کیس میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔

قانون دانوں کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں اغوا اور ڈکیتی جیسی دفعات شامل ہوں تو متاثرہ فریق کی جانب سے معافی کے باوجود ریاست مدعی بن کر کیس لڑ سکتی ہے۔ یہ عمل انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

پنجاب حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاتون کی سیکیورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔ حکومت کا یہ اقدام خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔

عوام کی جانب سے بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شواہد کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت مزید سخت اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کر سکے۔ انصاف کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں