ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے ہوئے جرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شہروں میں چھاپے مار کر ایک معروف ٹک ٹاکر سمیت کل پندرہ ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔
حکام کے مطابق گرفتاریوں کا یہ عمل سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران جدید تکنیکی ذرائع اور انٹیلی جنس معلومات کو بروئے کار لایا گیا تاکہ ملزمان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
اس کارروائی کے دوران ایک اہم پیش رفت میں ٹک ٹاکر شاہزیب سیالکوٹی کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی جس سے سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔
خاتون کی نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے اس گھناؤنے واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ اداروں نے فوری ایکشن لیا اور ملزم کی شناخت کر کے اسے دبوچ لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ملتان میں بھی سائبر کرائم ونگ اور دیگر اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی شادی بیورو کے نام پر شہریوں کو لوٹنے والے گروہ کا پردہ فاش کر دیا۔ اس جعلی نیٹ ورک کے چار اہم کارندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
یہ ملزمان جعلی شادی بیورو کی آڑ میں معصوم شہریوں کو شادی کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم بٹور رہے تھے۔ ملتان میں کی جانے والی اس کارروائی سے شہریوں کو مزید مالی نقصان سے بچانے میں بڑی مدد ملی ہے۔
ایک اور کارروائی کے دوران ویزا ایجنٹ بن کر شہریوں کو بیرون ملک بھیجنے کا جھوٹا خواب دکھانے والے چھ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ عناصر سادہ لوح شہریوں سے لاکھوں روپے بٹور کر غائب ہو جاتے تھے۔
گرفتار ہونے والے ان ویزا ایجنٹوں کے قبضے سے متعدد جعلی دستاویزات اور پاسپورٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ لوگ طویل عرصے سے شہریوں کو ملازمت اور تعلیم کے نام پر دھوکہ دے رہے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تمام کارروائیوں کے دوران ملزمان کے استعمال میں رہنے والے موبائل فونز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ ان برآمد شدہ آلات سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
تحقیقات کے دوران ایک اور بڑے فراڈ نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا ہے جو متحدہ عرب امارات کی معروف ٹیلی کام کمپنیوں کے نام پر شہریوں سے رابطہ کرتا تھا۔ یہ نیٹ ورک غیر قانونی طریقے سے شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کر رہا تھا۔
اماراتی ٹیلی کام کمپنیوں کے نام پر ڈیٹا چرانے والے اس گروہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے چھپے دیگر افراد کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
موجودہ دور میں آن لائن دھوکہ دہی کے نت نئے طریقوں نے سادگی سے زندگی گزارنے والے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں قانون کی رٹ قائم رکھی جائے گی۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن ذرائع، سوشل میڈیا اور نامعلوم کالز پر مکمل محتاط رہیں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فراڈ کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو مطلع کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔





اپنی رائے دیں