اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اصلاحات کے موضوع پر ایک اہم قومی مباحثہ منعقد کیا گیا جس میں ملک کے انتظامی مسائل، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے اہم سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور معززین نے شرکت کی اور موجودہ حکومتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
مباحثے کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ تقریب کا مقصد ایسے عملی حل تلاش کرنا تھا جن کی مدد سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں اور ملکی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار اور حقیقی ترقی کے لیے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے تمام بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں۔
احسن اقبال نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت سکولوں کی دہلیز سے باہر ہیں جنہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافے کے بغیر روشن مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیر نے ملک میں بچوں کی نشوونما کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں چالیس فیصد بچے سٹنٹنگ یعنی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ملکی معیشت اور معاشرے کا آگے بڑھنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے اور اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر دو اعشاریہ پانچ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وسائل پر بڑھتے ہوئے اس دباؤ کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ مستقبل کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں بااختیار تیسری سطح کی حکومت یعنی مضبوط بلدیاتی نظام قائم کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف نچلی سطح پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ بلکہ عوام کے مسائل ان کے اپنے حلقے میں ہی حل ہو سکیں گے۔
وسائل کی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت سے فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کو رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے درست استعمال پر مؤثر نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط بنایا جائے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی موجودہ حالات کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام حکومت کی ازسرنو تشکیل وقت کی ضرورت بن چکی ہے اور اس حوالے سے تمام فیصلے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہروں اور علاقوں کے بااختیار نمائندے خود فیصلے نہیں کریں گے، بہتری نہیں آئے گی۔
مباحثے کے ایک اور شریک بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے پہلے سے ہی مناسب ڈھانچہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے استعمال کے فیصلے صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر عوام سے مختلف ترقیاتی کام کرانے کے وسیع وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ گلیاں اور سڑکیں بنانے جیسے بنیادی مسائل بھی حل نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ملک کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے مستقبل میں آئینی ترمیم کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے انتظامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرز پر پاکستان کو چلانے کا ابتدائی تصور پیش کیا گیا تھا، بدقسمتی سے نظام اس کے مطابق نہیں چل سکا۔
قمر زمان کائرہ نے قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں قانون پر مکمل عمل درآمد نہ کیا جا رہا ہو، وہاں دیگر پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انتظامی اصلاحات کی جانی چاہئیں، مگر اس کے ساتھ ان اسباب کو بھی سمجھنا ہوگا جو ان مسائل کو جنم دیتے ہیں۔
مباحثے کے دوران محمد علی درانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اصلاحات کے معاملے کو سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔
شرکائے مباحثہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو درپیش انتظامی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس قسم کے قومی مباحثے پالیسی سازوں کے لیے رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں جنہیں مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔





اپنی رائے دیں