مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:17
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمییوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلجعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درجریلوے پٹریوں پر پتھر اور میٹرو ٹریک پر کنکریٹ کیوں استعمال ہوتی ہے؟پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہامریکا میں شوہر نے سکون سے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو باندھ دیاآسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر میگن شٹ پر پابندی عائدسرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت سے متعلق نئے ڈیکلریشن رولز جاریامیتابھ بچن کی طبیعت ناساز، سوشل میڈیا سے عارضی دوری کا اعلانسعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی جوڑے کی تصاویر جعلی نکلیںحافظ آباد میں جائیداد کے تنازع پر بیٹوں نے والد اور صلح کرانے والے کو قتل کر دیانئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر قومی مباحثہ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زورپشاور ہائیکورٹ: سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل پر حکومت سے جواب طلب
پاکستان

نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر قومی مباحثہ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور

وفاقی وزیر احسن اقبال، مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں نے انتظامی امور اور بلدیاتی نظام پر جامع گفتگو کی۔

نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر قومی مباحثہ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور

اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اصلاحات کے موضوع پر ایک اہم قومی مباحثہ منعقد کیا گیا جس میں ملک کے انتظامی مسائل، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے اہم سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور معززین نے شرکت کی اور موجودہ حکومتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔

مباحثے کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ تقریب کا مقصد ایسے عملی حل تلاش کرنا تھا جن کی مدد سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں اور ملکی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار اور حقیقی ترقی کے لیے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے تمام بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں۔

احسن اقبال نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت سکولوں کی دہلیز سے باہر ہیں جنہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافے کے بغیر روشن مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

وفاقی وزیر نے ملک میں بچوں کی نشوونما کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں چالیس فیصد بچے سٹنٹنگ یعنی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ملکی معیشت اور معاشرے کا آگے بڑھنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے اور اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر دو اعشاریہ پانچ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وسائل پر بڑھتے ہوئے اس دباؤ کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ مستقبل کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں بااختیار تیسری سطح کی حکومت یعنی مضبوط بلدیاتی نظام قائم کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف نچلی سطح پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ بلکہ عوام کے مسائل ان کے اپنے حلقے میں ہی حل ہو سکیں گے۔

وسائل کی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت سے فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کو رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے درست استعمال پر مؤثر نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط بنایا جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی موجودہ حالات کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام حکومت کی ازسرنو تشکیل وقت کی ضرورت بن چکی ہے اور اس حوالے سے تمام فیصلے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہروں اور علاقوں کے بااختیار نمائندے خود فیصلے نہیں کریں گے، بہتری نہیں آئے گی۔

مباحثے کے ایک اور شریک بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے پہلے سے ہی مناسب ڈھانچہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے استعمال کے فیصلے صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر عوام سے مختلف ترقیاتی کام کرانے کے وسیع وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ گلیاں اور سڑکیں بنانے جیسے بنیادی مسائل بھی حل نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ملک کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے مستقبل میں آئینی ترمیم کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے انتظامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرز پر پاکستان کو چلانے کا ابتدائی تصور پیش کیا گیا تھا، بدقسمتی سے نظام اس کے مطابق نہیں چل سکا۔

قمر زمان کائرہ نے قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں قانون پر مکمل عمل درآمد نہ کیا جا رہا ہو، وہاں دیگر پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انتظامی اصلاحات کی جانی چاہئیں، مگر اس کے ساتھ ان اسباب کو بھی سمجھنا ہوگا جو ان مسائل کو جنم دیتے ہیں۔

مباحثے کے دوران محمد علی درانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اصلاحات کے معاملے کو سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔

شرکائے مباحثہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو درپیش انتظامی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس قسم کے قومی مباحثے پالیسی سازوں کے لیے رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں جنہیں مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں