واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکا کا مجموعی قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے مختصر عرصے کے دوران اس قرض میں تقریباً 400 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملکی قرض کا حجم 19 اگست 2026 کو پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی نفسیاتی حد کو عبور کر گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک اس میں مزید ایک فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
معاشی ماہرین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتی اخراجات اور ٹیکسوں کے نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ قرض آئندہ چھ برسوں کے اندر 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
قرض کے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ ساتھ اس پر ادا کیے جانے والے سود کی شرح بھی حکومتی بجٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا سالانہ تقریباً 970 ارب ڈالر صرف قرض کے سود کی مد میں ادا کر رہا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ قرض پر ادا کیا جانے والا یہ سود امریکی دفاعی اخراجات سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سن 2020 کے بعد سے سود کی ادائیگیوں کے اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے قومی خزانے پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرض کی یہ رفتار ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں قومی قرض ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 120 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت کا کل قرض امریکا میں ایک سال کے دوران پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی مالیت سے بھی بڑھ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں حکومتی وسائل انتہائی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
قرض پر سود کی مد میں بڑی رقم خرچ ہونے سے صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور دیگر اہم عوامی شعبوں کے لیے مالی گنجائش کم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلند شرح سود کے باعث نئے قرضوں کا حصول بھی مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی معیشت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ قرض کی ریکارڈ سطح کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھنے کی رفتار بھی تیز ہے۔ حکومتی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کے فقدان کو اس بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کی نظریں بھی اب امریکی معاشی پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو امریکی حکومت کو طویل مدتی مالیاتی استحکام برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بجٹ خسارے اور قرض کی حد کے حوالے سے بحث ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار نے اس بحث کو ایک نئی اور زیادہ سنجیدہ جہت فراہم کر دی ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
مستقبل قریب میں امریکی انتظامیہ کو نہ صرف اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے بلکہ محصولات بڑھانے کے لیے بھی سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ قرض کا یہ بوجھ آنے والی نسلوں کے لیے معاشی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
فی الحال امریکی حکومت کی جانب سے اس بڑھتے ہوئے قرض کو کم کرنے کے لیے کسی جامع حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی معاشی مبصرین اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا رسک قرار دے رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں