امریکا نے ایران کے خلاف اپنی اقتصادی دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں 5 افراد، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز آئے ہیں۔
یہ نئی پابندیاں 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کے تحت عائد کی گئی ہیں، جس کا مقصد ایران کی جانب سے کی جانے والی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور ان میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے کا حصہ ہیں۔
پابندیوں کی فہرست میں شامل اداروں میں سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم شپنگ ایجنٹس بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر دبئی میں قائم 'وائلر شپنگ لائن' نامی کمپنی کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے، جو ایران کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، پابندیوں کی زد میں آنے والے 9 بحری جہازوں کا تعلق پاناما اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ ان جہازوں کو ایران کی اقتصادی معاونت میں کردار ادا کرنے کی بنیاد پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔
امریکی وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف یہ کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے۔ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے تحت مزید جنگی جہاز اور فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان پابندیوں کا مقصد ایران کی سمندری تجارت کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے تاکہ اسے عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔ اس سے قبل بھی امریکا ایران کی تیل اور شپنگ انڈسٹری پر متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
ایران کی جانب سے ان نئی پابندیوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تہران ماضی میں امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر مزید بوجھ ڈالیں گی، خاص طور پر شپنگ اور لاجسٹک کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل بھی کئی کمپنیاں اسی طرح کی پابندیوں کے بعد اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی لائنوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان پابندیوں کو اسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مستقبل میں ان پابندیوں کے اثرات کیا ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ فی الحال، واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسی پر قائم رہے گا اور کسی بھی قسم کی معاونت کرنے والے عناصر کو نہیں بخشا جائے گا۔





اپنی رائے دیں