مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںکرسٹیانو رونالڈو کا انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلانمقامی دفاعی صلاحیتوں کا فروغ اور مسلسل تربیت ناگزیر ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیراوگرا کی جانب سے 6 نومبر کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے ریلیف کا امکانوزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈرپاس منصوبے کا افتتاح کر دیاسعودی عرب: ینبع میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر سول ڈیفنس کا الرٹ جاریوارنر برادرز کی نئی اینیمیٹڈ فلم دی کیٹ ان دی ہیٹ کا اعلانچیمپئنز لیگ: کومو کی لینس کے خلاف تاریخی فتح، لیورپول کو شکستپاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس ضلع خیبر سے رپورٹپاکستان اور برطانیہ کا سیکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوسیم اکرم کا افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکارپولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریفپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگاوکٹر ومبنیاما کے 52 پوائنٹس کے شاندار کھیل سے سپرز کی ڈلاس میورکس پر کامیابیامریکی ریاست کولوراڈو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہیسوات: خاتون سے زیادتی میں ملوث 2 پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجفیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کیسز سننے سے روک دیاآبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز اور ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰبینک آف پنجاب نے پاکستان کا پہلا ماسٹر کارڈ ورلڈ ایلیٹ متعارف کرا دیاآٹزم کے شکار افراد میں پارکنسنز کے مرض کا خطرہ دو گنا زیادہ ہونے کا انکشاف
اسلام آباد

اسلام آباد ہائیکورٹ: دوران سماعت سیلفیاں بنانے پر وکیل کی سرزنش

عدالت کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل کو سخت تنبیہ کی جس کے بعد انہیں معذرت کرنا پڑی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی کارروائی کے دوران ایک وکیل کی جانب سے سیلفیاں بنانے کا واقعہ پیش آیا، جو ان کے لیے باعثِ شرمندگی ثابت ہوا۔ عدالت میں جاری مقدمات کی سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل کو کمرہ عدالت کے اندر موبائل فون سے سیلفیاں بناتے ہوئے دیکھ لیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے اس غیر مناسب رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وکیل کو ٹو کا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت ایک مقدس مقام ہے جہاں قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کا کام ہوتا ہے، لہٰذا یہاں کے تقدس اور ڈیکورم کا خیال رکھنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے سخت لہجے میں استفسار کیا کہ وہ کمرہ عدالت میں کیا کر رہے ہیں اور انہیں اپنے عمل پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ جج نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں اور ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے گریز کریں۔

عدالتی ڈیکورم کی خلاف ورزی پر وکیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہیں فوری طور پر جسٹس خادم حسین سومرو سے معذرت کرنا پڑی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھنا ہر متعلقہ فرد کے لیے لازم ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں وکلاء سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عدالتی آداب کی پاسداری کریں گے۔ کمرہ عدالت میں موبائل فون کا غیر ضروری استعمال یا ایسی سرگرمیاں جو عدالتی کارروائی میں خلل ڈالیں یا اس کے وقار کے منافی ہوں، قابلِ گرفت سمجھی جاتی ہیں۔

عدالتی امور کے ماہرین کے مطابق وکلاء عدلیہ کا اہم حصہ ہیں اور ان کا کردار انصاف کی فراہمی میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے رویے سے عدالت کے تقدس کو مجروح کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔

اس واقعے کے بعد عدالتی حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کمرہ عدالت میں موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے مزید احتیاط برتی جانی چاہیے۔ عدالتی کارروائی کے دوران توجہ صرف مقدمات کے قانونی نکات پر ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے کی گئی یہ سرزنش دیگر وکلاء کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ عدالت میں حاضری کے دوران پیشہ ورانہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ عدالتی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا شمار ملک کی اہم ترین عدالتوں میں ہوتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر اہم قانونی معاملات زیر سماعت رہتے ہیں۔ ان مقدمات کی اہمیت کے پیش نظر وکلاء اور سائلین دونوں سے نظم و ضبط کی توقع کی جاتی ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران اس طرح کے واقعات عدالتی نظام کی سنجیدگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے ججز کی جانب سے ایسے اقدامات پر فوری نوٹس لینا عدالتی ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا عدالتوں میں موبائل فون کے استعمال پر مزید سخت ضوابط لاگو ہونے چاہئیں۔ تاہم، زیادہ تر قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ وکلاء کو خود اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔

عدالتوں میں موبائل فون کے استعمال کے حوالے سے پہلے ہی کئی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، جن کا مقصد عدالتی کارروائی کو شفاف اور پرسکون بنانا ہے۔ وکیل کی جانب سے سیلفیاں بنانے کا یہ عمل ان ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے وکلاء تنظیموں کو بھی اپنے اراکین کی تربیت اور رہنمائی پر توجہ دینی چاہیے۔ عدالتی وقار کا تحفظ صرف ججز کی نہیں بلکہ وکلاء کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ انصاف کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

اسلام آباد کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں