مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
سمیر منہاس کی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت، عظیم گھمن کی حمایتیوکرین کے امدادی مرکز پر روسی حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئیہوسٹن ایسٹروز کا مینیجر کے عہدے کیلئے البرٹ پوجولس اور مورگن اینزبرگ سے انٹرویوز کا فیصلہپی ٹی آئی کا عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہپاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم اے سی سی ایشیا کپ میں مہم کا آغاز کل کرے گیبرطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی سپریم کورٹ میں چیلنج، درجنوں گرفتاراسلام آباد میں ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی قبضہ لے لیا گیا، فائیو سٹار ہوٹل بنے گا: محسن نقویعوام تنگ آئے تو اسرائیل کا وزیراعظم بن جاؤں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانامریکی وسط المدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی سے عالمی سطح پر ہلچلنائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہشین ڈائٹ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقررسالک حسین کرپشن کے ثبوت دیں یا معافی مانگیں: عظمیٰ بخاری کا مطالبہامریکہ میں مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی کانگریس پر شاندار کامیابیایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینسامریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیاسعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے: وزیر خزانہسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستان کی جانب سے تیز پچز تیار کرنے کا فیصلہوفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدیکوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، گر کر زخمینیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب
کاروبار

پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، لاہور کے رکشہ ڈرائیورز شدید مشکلات کا شکار

مہنگائی اور ایندھن کے نرخوں میں بار بار تبدیلی کے باعث رکشہ چلانے والے افراد دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے بھی پریشان ہیں۔

شہرِ لاہور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل نے رکشہ ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ان محنت کشوں کے لیے روزانہ کے اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ دن بھر کی سخت محنت کے بعد جو آمدنی حاصل ہوتی ہے، اس کا بڑا حصہ پٹرول کے اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے لیے ضروری راشن اور دیگر اخراجات پورے کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

صرف پٹرول ہی نہیں بلکہ رکشے کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انجن آئل کی تبدیلی، ٹائروں کی مرمت اور گاڑی کے دیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ڈرائیوروں کو ایک طرف ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے تو دوسری طرف کرایوں کے تعین پر بھی انہیں کشمکش کا سامنا ہے۔ اگر وہ کرایوں میں اضافہ کرتے ہیں تو سواریاں ناراض ہو کر رکشے میں بیٹھنے سے گریز کرتی ہیں۔

دوسری جانب اگر وہ پرانے کرایوں پر ہی کام جاری رکھیں تو ان کی اپنی جیب سے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اس دو طرفہ دباؤ نے رکشہ ڈرائیوروں کو ایک ایسی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

متاثرہ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کی روزانہ کی کمائی پر پڑتا ہے۔ اب ان کے لیے اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات اور گھر کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں نے ڈرائیوروں کے لیے اپنے ماہانہ بجٹ کا تخمینہ لگانا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ انہیں ہر صبح اٹھ کر یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ آیا آج کا دن ان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں رکشہ چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے۔ ایندھن سستا ہونے سے ہی ان کی آمدنی میں بہتری آ سکتی ہے اور وہ باعزت طریقے سے اپنا گھر چلا سکتے ہیں۔

کئی ڈرائیوروں نے بتایا کہ وہ قرض لے کر اپنے رکشوں کی مرمت کرواتے ہیں، لیکن پٹرول کے اخراجات نکالنے کے بعد اتنی بچت نہیں ہوتی کہ وہ قرض کی اقساط بھی ادا کر سکیں۔ یہ صورتحال انہیں ذہنی دباؤ اور مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔

موجودہ معاشی حالات میں رکشہ ڈرائیوروں کی یہ فریاد حکومتی سطح پر توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہیں لایا گیا تو یہ طبقہ مزید معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے ان کے خاندانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔

رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی محنت کا صلہ چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔

شہر کے مختلف سٹینڈز پر موجود ڈرائیور اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ اس پیشے کو جاری رکھیں یا کوئی اور متبادل تلاش کریں۔ تاہم، متبادل روزگار کی کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث وہ اسی مشکل پیشے سے وابستہ رہنے پر مجبور ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کاروبار کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں