پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے ملکی معیشت کے لیے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت آئی ٹی برآمدات کا حجم 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملکی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور عالمی منڈی میں پاکستانی آئی ٹی خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتے ہیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ماہ ستمبر کے دوران آئی ٹی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 10 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس پیش رفت سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملنے کے ساتھ ساتھ شعبے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
اگر سالانہ بنیادوں پر موازنہ کیا جائے تو آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ شرح نمو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مستحکم کر رہا ہے۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مجموعی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو آئی ٹی برآمدات کا حجم ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں یہ 18 فیصد اضافہ ملکی برآمدی اہداف کے حصول کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 43 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھیں۔ ستمبر کے حالیہ اعداد و شمار اس تاریخی ریکارڈ سے صرف 20 لاکھ ڈالر کم ہیں، جو اس شعبے کی بحالی اور تیز رفتار ترقی کی واضح علامت ہے۔
مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے آئی ٹی برآمدات میں اس اضافے کو حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں دی گئی مراعات اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے شعبے کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔
حکومت کی جانب سے آئی ٹی سیکٹر کو دی جانے والی سہولیات کا مقصد نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرنا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔ اس حکمت عملی سے ملک میں آئی ٹی برآمدات کا ایک پائیدار ماڈل تشکیل پا رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق آئی ٹی شعبہ پاکستان کی برآمدات میں تنوع لانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ روایتی برآمدات کے برعکس، آئی ٹی خدمات میں اضافے سے ملکی معیشت کو طویل مدتی فوائد حاصل ہوں گے اور عالمی منڈی میں پاکستان کا تشخص بہتر ہوگا۔
آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اب آئی ٹی کے شعبے میں مہارت حاصل کر کے بین الاقوامی سطح پر اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
حکومتی سطح پر آئی ٹی پارک کے قیام اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جاری منصوبے بھی اس شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ان اقدامات سے آئی ٹی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد مل رہی ہے۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں ہونے والا یہ اضافہ اس بات کی نوید ہے کہ اگر اسی رفتار سے کام جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں نئے ریکارڈز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ معاشی استحکام کے لیے آئی ٹی شعبے کا کردار اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
آئی ٹی برآمدات کے اعداد و شمار میں بہتری سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کا عزم ہے کہ آئی ٹی برآمدات کو مزید بڑھایا جائے تاکہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
مستقبل کے حوالے سے حکومتی حکام پرامید ہیں کہ آئی ٹی سیکٹر ملکی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری اور تحقیق پر مزید توجہ دینے سے پاکستان عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں