مواد پر جائیں
ہفتہ، 17 اکتوبر 2026 6 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:56
بریکنگ
کراچی: اسٹیل ٹاؤن سے مغوی نوجوان کی بوری بند لاش برآمد، کزن سمیت دو ملزمان گرفتارلکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاکیمن: عدن ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملہ، حوثیوں کا سعودی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰپاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکانپٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی، ڈیزل کی قیمت برقرارخالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی دھمکیعازمین حج و عمرہ کیلئے ویکسین خریداری میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکمپیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلاننانا پاٹیکر کے انتقال پر تنوشری دتہ کا متنازع بیان، بیٹے ملہار کا ردعملمولانا فضل الرحمٰن نے کبھی گورنر شپ کا مطالبہ نہیں کیا، رانا ثناء اللہیامی گوتم نے فلم ’دھرندھر 2‘ میں مختصر کردار کے معاوضے کی حقیقت بیان کر دیغزہ میں اسرائیلی مظالم پر مبنی دستاویزی فلم ‘نازا’ عالمی سطح پر زیر بحثبھارت: ’لہرا دو ترنگا‘ ریلی سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی گرفتاربولی وڈ اداکارہ کریتی سینن کا مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کیخلاف عدالت سے رجوعلاہور: پولیس حراست میں دھوکہ دہی کے ملزم کی دورانِ علاج ہلاکتٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترجمان وائٹ ہاؤس کیٹی زکریا کو عہدے سے برطرف کر دیافرسٹ کلاس کرکٹ کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بناتی ہے: فخر زمانون ڈے ٹرائی سیریز: پاکستان اور سری لنکا کی راولپنڈی میں بھرپور پریکٹسآئیسکو کا بجلی کی فراہمی معطل رکھنے کا شیڈول جاری
دنیا

عراق: خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ، متاثرین کو انصاف کا انتظار

عراق میں خواتین کو جنسی استحصال اور ہراسانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ قانونی تحفظ اور سماجی رکاوٹیں انصاف کی راہ میں بڑی دیوار بنی ہوئی ہیں۔

عراق: خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ، متاثرین کو انصاف کا انتظار

عراق میں خواتین کو جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ قانونی نظام بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم کارکن سارہ جاسم کا کہنا ہے کہ اب خواتین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہیں۔ وہ ہراسانی کے واقعات کو کیمرے میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں تاکہ مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سارہ جاسم نے بتایا کہ اس طرح کی ویڈیوز کے ذریعے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار بھی کیا گیا جس پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، اس عمل کے دوران انہیں خود بھی سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔

عراقی قوانین میں جنسی ہراسانی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف واضح دفعات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ضابطہ تعزیرات میں ایسے اقدامات کی کمی ہے جو مجرموں کو باز رکھ سکیں اور متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کر سکیں۔

اقوام متحدہ کی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق کمیٹی نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں عراق میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امتیازی قوانین کو ختم کریں جو مجرموں کو سزا سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔

کمیٹی نے خاص طور پر ان قوانین پر تنقید کی ہے جن کے تحت ریپ کے مجرم کو متاثرہ خاتون سے شادی کرنے پر سزا سے استثنیٰ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 'غیرت کے نام پر قتل' کے مرتکب افراد کے لیے نرم سزاؤں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایک متاثرہ خاتون 'امل' نے اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی لڑائی میں وسائل کی کمی اور سماجی بدنامی کا خوف ان کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔

عراق میں خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حال ہی میں حقوقِ نسواں کی ایک معروف کارکن یانار محمد کو بغداد میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد سے سماجی کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔

عراقی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ سعدون کے مطابق، مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خواتین خاموش رہتی ہیں، بلکہ جب وہ بولتی ہیں تو نظام میں ان کی بات سننے اور کارروائی کرنے والے اداروں کا فقدان ہے۔ ہر سطح پر معاملے کو خاموشی سے نمٹانے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

سمیرا (فرضی نام) جیسی خواتین کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر ہراسانی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ پولیس کے پاس جانے پر بھی اکثر یہی جواب ملتا ہے کہ ان کے پاس کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، جس سے خواتین کا اداروں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ہناء ادوار نے بھی اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں خواتین کے لیے نہ تو مناسب قوانین موجود ہیں اور نہ ہی انہیں انصاف کے حصول کے لیے کوئی ٹھوس نظام میسر ہے۔

معاشرتی سطح پر بھی خواتین کو اپنے خاندانوں کے ردعمل کا خوف رہتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خاندان کی ساکھ بچانے کے نام پر اکثر متاثرہ خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو مجرموں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔

عراق میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس امید پر ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے قوانین بنائے جائیں گے جو ان کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ انصاف کے حصول کے لیے ایک طویل قانونی عمل اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں