مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:57
بریکنگ
سعودی فوجی اتحاد کا حوثی ملیشیا کے حملے ناکام بنانے کا دعویٰخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ، وفاقی حکومت کا اہم اقدامخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، پارلیمنٹ سے توثیق مکملیوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیکراچی: گیس لیکیج اور فائرنگ کے واقعات میں خاتون پولیس اہلکار سمیت 2 خواتین زخمیکراچی: پولیس کے مختلف علاقوں میں مقابلے، 3 زخمیوں سمیت 4 ڈاکو گرفتارپاکستان اور ملائیشیا کی افواج کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق اختتام پذیر
دنیا بریکنگ نیوز

البانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتار

یورپی ملک البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کی جانب سے کرپشن اور ناقص سہولیات کے خلاف مظاہرے جاری ہیں جس کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔

البانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتار

یورپی ملک البانیہ میں تعلیمی نظام میں پائی جانے والی مبینہ بدعنوانیوں، مہنگی فیسوں اور بے روزگاری کے خلاف طلبہ کا حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں گزشتہ کئی روز سے میدانِ جنگ بنی ہوئی ہیں جہاں طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت تعلیمی شعبے میں فوری اصلاحات لائے اور وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ موجودہ نظام میں غریب طبقے کے لیے معیاری تعلیم کا حصول ناممکن ہو چکا ہے اور کرپشن نے تعلیمی اداروں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 51 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

مظاہرین نے دارالحکومت کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے دوران سرکاری عمارتوں، پولیس اسٹیشنز اور نجی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ مشتعل ہجوم نے وزارت تعلیم کی عمارت سمیت کئی اہم سرکاری دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے جوابی کارروائی کی گئی، جس کے دوران اب تک 55 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

احتجاج کا دائرہ کار صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں تک بھی پھیل چکا ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیمیں حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہی ہیں اور بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

البانیہ کے وزیراعظم ایدی راما نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے استعفے کا مطالبہ سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طلبہ کے جائز مطالبات، خاص طور پر مہنگی تعلیم کے مسئلے پر بات چیت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

وزیراعظم نے اس احتجاج کو ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے اور پرتشدد کارروائیاں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق البانیہ میں یہ مظاہرے حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ معاشی مشکلات اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اب ملک کی سیاسی فضا میں نمایاں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرتشدد مظاہروں سے دور رہیں اور امن و امان کے قیام میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ شہر کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور کئی تجارتی مراکز احتیاطی طور پر بند پڑے ہیں۔

بین الاقوامی برادری بھی البانیہ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ یورپی یونین کے حکام نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ملک میں مزید خونریزی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچنے سے روکا جا سکے۔

طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، وہ اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آنے والے دنوں میں البانیہ کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

البانیہ کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ بحران نے حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ وزیراعظم ایدی راما اب عوامی دباؤ کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں