کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں دو نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حادثات کے بعد لاشوں کو ضابطے کی کارروائی اور شناخت کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پہلا افسوسناک واقعہ ڈیفنس فیز فور کے علاقے میں خیابانِ اتحاد سگنل کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بیس سالہ عبدالحمید موٹر سائیکل پر سوار تھا کہ ایک نامعلوم گاڑی نے اسے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی چھیپا کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور متوفی کی لاش کو ہسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کا سبب بننے والی گاڑی اور اس کے ڈرائیور کا سراغ لگایا جا سکے۔
دوسرا واقعہ پورٹ قاسم کے قریب ٹریلر پارکنگ ایریا کے نزدیک پیش آیا جہاں ایک راہگیر نامعلوم گاڑی کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی عمر بائیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہے، تاہم اس کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر جناح ہسپتال پہنچایا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں قریبی علاقوں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے۔ تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اکثر ایسے المناک واقعات کا سبب بنتی ہے، جس سے کئی خاندان سوگوار ہو جاتے ہیں۔
شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی جانب سے بارہا شہریوں کو سڑک پر احتیاط برتنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ کے استعمال اور ٹریفک سگنلز کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کی مصروف شاہراہوں پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ اور نامعلوم گاڑیوں کی جانب سے غفلت برتنا حادثات کی بڑی وجہ ہے۔ اس حوالے سے سخت نگرانی اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ دونوں حادثات کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حادثات کا باعث بننے والی گاڑیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل کے پیش نظر ٹریفک پولیس کو بھی اپنی نفری بڑھانے اور حساس مقامات پر نگرانی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو محفوظ بنایا جائے۔
جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات میں دونوں متوفیوں کی لاشیں قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔ اس دوران ہسپتال انتظامیہ نے لواحقین سے رابطے کے لیے بھی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
حادثات کے بعد متاثرہ علاقوں میں سوگ کی فضا دیکھی گئی۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ان حادثات کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر رابطہ کرے۔ آپ کی معمولی سی معلومات کسی بڑے مجرم تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں