یورپ کے اہم ملک جرمنی میں بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمن کابینہ نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے غور شروع کر دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد یورپی قوانین کے نفاذ تک بچوں کو آن لائن ماحول میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ایک آزاد ماہر کمیشن کی جانب سے پیش کردہ 56 سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ٹولز کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
نئے مجوزہ قوانین کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے مقبول سوشل نیٹ ورکس تک رسائی سے روکا جائے گا۔ تاہم، وہ پلیٹ فارمز جو خصوصی طور پر بچوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جرمن وزیر تعلیم اور خاندانی امور کیرن پرین نے اس پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تجزیے کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور حکومت عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے۔
حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ آج کے دور میں نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ڈیجیٹل دنیا میں خود ارادیت کے ساتھ پروان چڑھنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ فریم ورک فراہم کیا جائے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت 13 سے 18 سال کے نوعمروں کے لیے بھی عمر کے لحاظ سے الگ حدود مقرر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بطور ڈیفالٹ نشہ آور یا نقصان دہ مواد کی ترسیل کو بند کریں۔
جرمن حکومت 2027 تک یورپی یونین کے ڈیجیٹل آئیڈینٹیٹی والیٹ کے ذریعے عمر کی تصدیق کا ایک قابل اعتماد نظام متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نظام کو 'ڈی-یو' (d-you) کا نام دیا گیا ہے، جس سے آن لائن سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات بچوں کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں آن لائن دنیا میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ جرمنی کی جانب سے یہ اقدام یورپی سطح پر ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے منظور کردہ رہنما خطوط بچوں کے حقوق اور ان کی ڈیجیٹل شرکت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد بچوں کو ایک ایسے ماحول میں لانا ہے جہاں وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال محفوظ طریقے سے کر سکیں۔
جرمن حکام کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
اس پیش رفت کو جرمنی میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے والدین کو بھی اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوگا۔
جرمن کابینہ کے اس فیصلے کے بعد اب متعلقہ ادارے ان قوانین کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یورپی قوانین کے نفاذ تک یہ قومی سطح پر نافذ العمل رہیں گے تاکہ بچوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پالیسیوں میں مزید بہتری لانے کا بھی امکان ہے۔ جرمنی کا یہ اقدام عالمی سطح پر بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔





اپنی رائے دیں