کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں بی اماں پارک کے قریب پیش آنے والے دہرے قتل کے المناک واقعے کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ کینیڈا سے پاکستان آنے والے بزرگ میاں بیوی کی پراسرار موت کے بعد پولیس نے تفتیش کے دوران اہم شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقتول یامین اور ان کی اہلیہ نفیس اختر کی لاشیں ان کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھر سے مقتولہ کا موبائل فون تو مل گیا ہے، تاہم مقتول یامین کا موبائل فون غائب ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقتولین کے پاس موجود موبائل فونز کی گمشدگی اس کیس میں ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہے۔ پولیس اس پہلو پر غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واردات ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے مقتولین کے گھر پر جاری مرمتی کام کے دوران وہاں آنے والے مزدوروں اور دیگر افراد کی فہرست مرتب کر لی ہے۔ ان تمام افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ کسی مشکوک سرگرمی کا سراغ لگایا جا سکے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی ہے، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق کسی بھی فوٹیج میں مقتولین کے گھر کا داخلی یا خارجی راستہ واضح طور پر نظر نہیں آ سکا۔ اس رکاوٹ کے باوجود تکنیکی ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے۔
اب تک کی تفتیش میں پولیس کو اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں مل سکا ہے۔ اہل محلہ اور قریبی رہائشیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں، لیکن کسی نے بھی مقتولین کے گھر میں کسی اجنبی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولین کے قریبی رشتہ داروں سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی ذاتی زندگی اور پاکستان آمد کے مقاصد کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم ہو سکیں۔ اس معلومات سے تفتیش کو درست سمت دینے میں مدد ملے گی۔
دہرے قتل کی اس واردات کی نوعیت کے بارے میں پولیس تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کے بعد ہی قتل کی اصل وجوہات اور طریقہ کار کے بارے میں کچھ کہنا ممکن ہوگا۔
مقتولین کینیڈا سے پاکستان آئے ہوئے تھے اور اپنے گھر میں قیام پذیر تھے۔ ان کی اچانک موت نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ اہل خانہ اور عزیز و اقارب صدمے کی کیفیت میں ہیں۔
پولیس کی جانب سے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے اور علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔ پولیس نے علاقے میں گشت بڑھانے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔
مزید برآں، پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں اس واقعے کے حوالے سے کوئی بھی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ شہریوں کا تعاون تفتیش میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کیس کی پیشرفت پر اعلیٰ حکام بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کوئی ٹھوس ثبوت یا مشتبہ شخص کی شناخت ہوگی، میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ فی الحال تفتیش کا عمل انتہائی حساس مراحل میں ہے۔





اپنی رائے دیں