وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیاں کر کے مالیاتی استحکام حاصل کرنا طویل مدت میں ملکی پیداواری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے ملکی معاشی پالیسیوں کو مزید موثر بنانے کے لیے آٹھ نکاتی فریم ورک تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو انتخابی مرحلے سے قبل معاشی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے نشاندہی کی کہ مالیاتی نظم و ضبط اپنی جگہ اہم ہے تاہم صرف خسارے کے اعداد و شمار کو کم کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بحالی کا انحصار محصولات میں اضافے اور برآمدات بڑھانے پر ہونا چاہیے نہ کہ ترقیاتی منصوبوں کی قربانی پر۔
مراسلے میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سال 2018 میں وفاقی ترقیاتی اخراجات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے برابر تھے، جو اب کم ہو کر صرف 0.8 فیصد کی سطح پر آ چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے کردہ اہداف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسی میں صرف مقداری اہداف کو اہمیت دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کا طریقہ کار اور اس کی معاشی افادیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام 2029 کے انتخابات میں حکومت کی کارکردگی کو محض ماضی کے بحرانوں سے موازنہ کر کے نہیں پرکھیں گے، بلکہ وہ معاشی ترقی، روزگار، آمدنی، سرمایہ کاری، برآمدات، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور معاشی مواقع کو مدنظر رکھیں گے۔
احسن اقبال نے تجویز دی کہ وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کو مل کر سال 2028-29 تک کے لیے ایک قابلِ اعتماد درمیانی مدت کا معاشی منظرنامہ تیار کرنا چاہیے۔ اس سے معیشت کو ایک واضح سمت مل سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس وصولیوں کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو موثر طریقے سے ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیر کے مطابق، ترقیاتی اخراجات میں مسلسل کمی سے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آبی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ یہ شعبے ملک کی طویل مدتی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مالیاتی استحکام کو صرف کسی مخصوص پروگرام کی تکمیل تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کے بعد بھی سرمایہ کاری، برآمدات اور محصولات میں اضافے کے لیے ایک جامع اور پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ریاست کو اپنے محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے ٹیکس نفاذ کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ محصولات کی کمی مالیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے جس کا براہ راست اثر عوامی فلاحی منصوبوں پر پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ترقی سے ہم آہنگ مالیاتی استحکام کا ماڈل اپنانا ہوگا تاکہ معیشت کو قرضوں کے بوجھ سے نکال کر خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں