ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکا کو ایرانی قوم کے جائز اور اصولی مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی سطح پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں طبیعات کا نوبل انعام دے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خزانہ کی جانب سے ایران کی معیشت کے حوالے سے کی گئی تمام پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی امریکی حکام کی جانب سے ایران کے تیل کے کنوؤں میں دھماکوں اور ملکی معیشت کی تباہی کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم یہ تمام دعوے حقیقت کے برعکس ثابت ہوئے اور ایران نے ان چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے ماضی میں بھی کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس کا اعتبار متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اور پالیسیوں کی سزا ملنی چاہیے۔
باقر قالیباف نے ایران کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہا کہ ہم اپنے اہداف کے حصول کے لیے تمام راستے کھلے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہم جنگ بھی لڑتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ تہران کی جانب سے مسلسل یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے بیرونی مداخلت کا خاتمہ ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کا یہ بیان ایران کی جانب سے اپنی معاشی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اظہار ہے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ امریکی پابندیاں ملک کو ترقی کی راہ سے نہیں ہٹا سکتیں اور نہ ہی ایرانی عوام کے حوصلے پست کر سکتی ہیں۔
ایران کے سرکاری حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ امریکی معاشی دباؤ کا مقصد ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اکسانا تھا، تاہم یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی مسلسل جدید بنانے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے تہران پر مختلف الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جنہیں ایران ہمیشہ مسترد کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
باقر قالیباف نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی قوم اپنے لیڈروں کی قیادت میں متحد ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا راستہ امن اور انصاف پر مبنی ہے۔
ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل صرف علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں تاکہ بیرونی طاقتوں کا اثر و رسوخ کم ہو۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات اور جنگ دونوں کے آپشنز کا ذکر ایک متوازن حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تہران عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
آخر میں، باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے اصولی موقف پر قائم رہے گا اور عالمی فورمز پر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔





اپنی رائے دیں