کراچی کے علاقے گلشنِ حدید کی ایک نجی سوسائٹی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک ہی گھر سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں میاں بیوی، ان کی دو کم سن بیٹیاں اور ایک خاتون رشتہ دار شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ شاہ زیب، 28 سالہ صبا، 20 سالہ شمائلہ، 5 سالہ ایزل اور تین سالہ آریا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا خط ملا ہے، جس میں مبینہ طور پر شدید مالی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔ خط میں گھر کا کرایہ ادا کرنے اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے رشتہ داروں سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
واقعے کی نوعیت کے حوالے سے پولیس نے بتایا کہ میاں بیوی کے سر پر گولی لگنے کے نشانات پائے گئے ہیں، جبکہ دیگر تین افراد کے بارے میں زہریلی شے کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، حتمی وجوہات کا تعین فرانزک رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
گھر سے ملنے والی معمولی مقدار میں پکے ہوئے چاولوں کی دیگچی نے بھی تفتیش کاروں کی توجہ حاصل کی ہے، جسے خاندان کی معاشی بدحالی سے جوڑا جا رہا ہے۔ پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ خودکشی ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔
دوسری جانب مقتول شاہ زیب کے کزن علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مالی مشکلات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہ زیب کے مالی حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ وہ ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوتا۔
کزن کے مطابق شاہ زیب نے حال ہی میں اپنا ایک گھر تین کروڑ روپے میں فروخت کیا تھا اور وہ اسی سوسائٹی میں ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نیا گھر تعمیر کروا رہا تھا، جہاں اسے جلد منتقل ہونا تھا۔ اس بیان نے واقعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
علی نے مزید بتایا کہ شاہ زیب کا گزشتہ پانچ سے چھ برسوں سے اپنے خاندان کے دیگر افراد سے قطع تعلق رہا تھا، جس کی وجہ سے انہیں اس کے حالاتِ زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد پنجاب اور بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
مقامی رہائشیوں اور رشتہ داروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس المناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حقائق سامنے لانا ضروری ہے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ پانچ قیمتی جانیں کن حالات میں ضائع ہوئیں۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا گھر سے ملنے والا خط شاہ زیب نے خود لکھا تھا یا یہ کسی اور کی تحریر ہے۔ فرانزک ماہرین کی مدد سے خط کی ہینڈ رائٹنگ اور دیگر شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق تک پہنچا جا سکے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے اور لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ ایک خوشحال دکھائی دینے والا خاندان اچانک اتنی بڑی تباہی سے کیسے دوچار ہوا۔ پولیس حکام نے یقین دلایا ہے کہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
شاہ زیب کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرسکون زندگی گزارنے کا خواہشمند تھا، تاہم اس کے تنہائی پسند رویے اور خاندان سے دوری نے معاملات کو خفیہ رکھا۔ پولیس اب اس کے کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی بھی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔
واقعے کی حتمی رپورٹ آنے تک پولیس نے کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ واقعہ قتل ہے یا خودکشی کے پیچھے کوئی گہری سازش چھپی ہے۔





اپنی رائے دیں