یمنی حوثی گروپ کی جانب سے چین سے درآمد کیے گئے پرزوں کی مدد سے جدید اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ انکشاف ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں ہتھیاروں کی سپلائی چین پر کام کرنے والے گروپ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔
کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ایک چینی سپلائر سے مخصوص پرزے حاصل کیے ہیں، جن کا مقصد ایران کے طاقتور 'خیبر شکن' گائیڈڈ میزائل کا مقامی ورژن تیار کرنا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی اس میزائل کو تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کی رینج تقریباً 1200 میل تک ہو سکتی ہے۔ اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے اہم مقامات اس میزائل کی زد میں آ سکتے ہیں۔
خیبر شکن میزائل کو اپنی نوعیت کا ایک مہلک ہتھیار سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جدید فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور اپنے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی حوثیوں کی عسکری طاقت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ رپورٹ گزشتہ سال یمنی حکام کی جانب سے روکی گئی دو شپمنٹس کی جانچ پڑتال پر مبنی ہے۔ ان شپمنٹس میں دیگر سامان کے ساتھ میزائل سازی کے لیے درکار حساس آلات کو خفیہ طور پر چھپایا گیا تھا، جس سے اس نیٹ ورک کا پتہ چلا۔
کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ کے سینیئر تجزیہ کار فیبین ہنز کے مطابق جب اس قسم کے پرزے درآمد کیے جاتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متعلقہ گروپ میزائل سازی کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جس پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
فیبین ہنز نے مزید کہا کہ حوثیوں کی ہتھیار بنانے والی تنصیبات انتہائی خفیہ مقامات پر قائم ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ میزائل کی پیداوار کس مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی خفیہ کارروائیاں سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی ہے اور عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان حملوں اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں جس پر دنیا بھر کے ممالک متفکر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے حوثیوں کے رویے کو انتہائی برا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کا امن اور تجارتی راستے خطرے میں پڑ رہے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے میزائل ٹیکنالوجی کا حصول خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کی سپلائی چین کو کیسے روکا جائے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک نے بھی حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے میزائل حملوں کے پیش نظر اپنے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
مستقبل قریب میں اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ ہتھیاروں کی غیر قانونی ترسیل کو روکنا اب خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک اہم ترجیح بن چکا ہے۔





اپنی رائے دیں