خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں سکوت دیکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ صوبے بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آئے گا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس رہے۔
تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا نے لوگوں کو سڑکوں پر لانے اور ان کو احتجاج پر اکسانے کی بہت کوشش کی، لیکن عوامی سطح پر کوئی بڑی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پشاور سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں معمولات زندگی بدستور جاری رہے۔
اس سے قبل لانگ مارچ کے دوران بھی عوامی شرکت کا تناسب توقعات سے کافی کم رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لانگ مارچ میں شریک افراد طویل عرصے سے سڑکوں پر موجود ہونے کے باعث تھکاوٹ کا شکار تھے اور ان میں مزاحمت کی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے پشاور پہنچنے کی کال دی گئی تھی، مگر اس کا بھی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ پشاور میں سو لوگ بھی اکٹھے نہ ہو سکے، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ تحریک انصاف پشاور میں کوئی بڑا یا چھوٹا احتجاج کرنے میں ناکام رہی۔
صوبے کے ضلع باڑہ میں چند سو افراد کا احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا اور سرکاری دفاتر کو آگ لگائی گئی۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چند گھنٹوں میں ہی صورتحال پر قابو پا لیا۔
گرفتار ہونے والے پچاس کے قریب مظاہرین کی جانب سے بعد ازاں جاری کردہ ویڈیوز میں اپنی غلطی کا اعتراف اور معافی مانگنے کا عمل بھی سامنے آیا، جس کے بعد صوبے میں حالات مکمل طور پر پرامن ہو گئے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنے حلقوں میں کسی چھوٹے یا بڑے احتجاج کی قیادت نہیں کی۔ صوبے کے بڑے سیاسی ناموں کی جانب سے خاموشی اختیار کیے جانے نے بھی عوامی سطح پر احتجاجی تحریک کو تقویت دینے میں رکاوٹ ڈالی۔
سوشل میڈیا پر احتجاج کے لیے ماحول بنانے کی کوششوں میں بعض جعلی ویڈیوز کا سہارا بھی لیا گیا، جن میں گورنر ہاؤس کے گھیراؤ اور بڑے اجتماعات کے دعوے کیے گئے۔ تاہم، عوام نے ان پروپیگنڈا مہمات سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور سڑکوں پر نکلنے سے گریز کیا۔
اس صورتحال نے سوشل میڈیا کی سیاسی اثر انگیزی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماضی میں سوشل میڈیا کو تحریک انصاف کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کو اب سوشل میڈیا کے دباؤ سے نکل کر زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے زیر اثر کیے گئے فیصلوں نے پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔
ایک طویل عرصے سے یہ بحث جاری تھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں احتجاج کی صلاحیت مختلف ہے، تاہم حالیہ واقعات نے اس بحث کو بھی ختم کر دیا ہے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ دونوں صوبوں میں عوامی ردعمل کی نوعیت کافی حد تک یکساں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عوام شاید تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے تھے۔ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی احتجاجی تحریک کا زور بھی ٹوٹ گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احتجاج کی پشت پر حکومتی طاقت کا عمل دخل تھا۔
مستقبل کے حوالے سے سیاسی ماہرین کسی بڑی احتجاجی تحریک کے چلنے کے امکان کو رد کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی استحکام کی جانب پیش رفت اور عوام کی عدم دلچسپی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صوبے کے لوگ اب پرامن ماحول کے خواہاں ہیں۔




اپنی رائے دیں