وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیشہ کیفوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں شہر بھر میں موجود تمام انڈور اور آؤٹ ڈور شیشہ کیفوں کو مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے غیر قانونی شیشہ کیفوں سے متعلق دائر کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر کے شہر میں جاری اس غیر قانونی سرگرمی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت عالیہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کا بیان حلفی جمع کرائیں کہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں اب کوئی بھی غیر قانونی شیشہ کیفہ فعال نہیں رہے گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں یہ کیفے کیسے کام کر رہے تھے۔
سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کیا حکومت نے شیشہ کیفوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی قواعد و ضوابط مرتب کیے ہیں۔ اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قواعد کا مسودہ تیار کر کے منظوری کے لیے حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق، عدالت کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی کیفے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں سیل کر دیا جائے گا۔
شیشہ نوشی کے صحت پر مضر اثرات کے پیش نظر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس پابندی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شیشہ کا استعمال پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جس سے نوجوان نسل کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ اب ان تمام مقامات کی نشاندہی کر رہی ہے جہاں غیر قانونی طور پر شیشہ کیفے چلائے جا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے کسی بھی سیکٹر یا کمرشل ایریا میں اب ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عدالتی احکامات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی بڑھائیں۔ کسی بھی جگہ شیشہ کیفے پائے جانے پر فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفوں کے خاتمے کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ عدالت کے حکم کی مکمل پاسداری کی جائے اور شہر کو غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کیا جائے۔
شہریوں نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ والدین کی جانب سے بھی اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ شیشہ کیفے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے تھے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیشہ کیفوں کے حوالے سے جو قواعد تیار کیے گئے ہیں، ان میں سخت شرائط شامل ہیں۔ منظوری کے بعد ان قواعد کا اطلاق پورے ملک میں کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ اس وبا کو روکا جا سکے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے دوران حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر مکمل عمل درآمد رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اسلام آباد پولیس کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے۔ کسی بھی قسم کی مزاحمت یا قانون شکنی کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے تاکہ شہر میں امن و امان اور صحت مند ماحول برقرار رہے۔





اپنی رائے دیں