مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:37
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپاکستانی اور بھارتی کرکٹرز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کانٹینیٹ کپ میں ایک ساتھ کھیلیں گےنیٹ فلیکس نے فیفا ورلڈ کپ 2030 کے نشریاتی حقوق حاصل کر لیےفاروق ستار کا قومی اسمبلی میں خطاب، کراچی اور سندھ کے مسائل پر توجہ کا مطالبہامریکہ میں اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے پر سعودی انجینیئر زیرِ تفتیشفیصل واوڈا کے ’ری بوٹ‘ اور کارکردگی کے بیانات پر سیاسی ہلچلسعودی اتحاد کا صنعا کے لیے انخلا کا حکم، یمن میں کشیدگی بڑھ گئیسندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ کے دورے میں تاخیر سے آنے والے ملازمین پر سخت کارروائی کا حکمبھارت میں ووٹر لسٹوں سے ناموں کے اخراج پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج
پاکستان

خیبرپختونخوا: سابق کابینہ اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہ ہو سکیں

صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق وزراء اور مشیروں کے پاس سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔

خیبرپختونخوا: سابق کابینہ اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہ ہو سکیں

خیبرپختونخوا میں سابق صوبائی کابینہ کے اراکین کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی واپسی کا معاملہ تاحال التوا کا شکار ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سابق وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کے پاس تاحال سرکاری گاڑیاں موجود ہیں جو انہوں نے اپنے عہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود محکمہ کو واپس نہیں کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبے میں مختلف نوعیت کی ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سابق اراکینِ کابینہ کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیوں کا استعمال بدستور جاری ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے انتظامی امور پر کئی طرح کے سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ عام حالات کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں بھی سرکاری وسائل کا اس طرح سابقہ عہدیداروں کے پاس رہنا ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ بعض سابق وزراء اور مشیروں کے پاس ایک یا دو نہیں بلکہ تین سے چار سرکاری گاڑیاں تک موجود ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا ایک ہی شخص کے زیرِ استعمال رہنا صوبائی وسائل کے غیر مناسب استعمال کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس سے متعلقہ محکموں کے دیگر دفتری امور بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

صرف وزراء اور مشیروں تک ہی یہ معاملہ محدود نہیں ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق سابق پارلیمانی سیکرٹریز کے پاس بھی اب تک سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔ یہ تمام افراد اپنے سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں مگر اس کے باوجود حکومتی پروٹوکول اور سہولیات سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ بعض نجی سوشل میڈیا شخصیات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے زیرِ استعمال بھی سرکاری گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔ اس انکشاف نے عوامی حلقوں میں حیرت اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ کس طرح سرکاری املاک کو غیر متعلقہ نجی افراد کے حوالے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب تمام سابق اراکین اس رویے پر عمل پیرا نہیں ہیں کیونکہ کچھ سابق کابینہ اراکین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے عہدے چھوڑنے کے فورا بعد یا کچھ عرصے کے اندر ہی اپنی سرکاری گاڑیاں متعلقہ محکموں کے حوالے کر دی تھیں۔ تاہم بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو ان گاڑیوں کو چھوڑنے پر کسی طور تیار دکھائی نہیں دیتی۔

انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام اس پورے معاملے کی سنگینی کا مکمل ادراک کرتے ہوئے اس کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ گاڑیوں کی فی الفور اور بلا تاخیر واپسی کے حوالے سے مختلف انتظامی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ تمام سرکاری وسائل کو فوری طور پر ریکور کیا جا سکے۔

صوبائی سطح پر اس معاملے کے میڈیا میں سامنے آنے کے بعد اب موثر انتظامی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ تمام سابق عہدیداروں اور غیر متعلقہ نجی افراد سے سرکاری گاڑیاں جلد از جلد واپس لی جا سکیں۔ عوام کی جانب سے بھی یہ پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری املاک کا ناجائز استعمال فی الفور بند کیا جائے۔

صوبے کے انتظامی امور چلانے والے محکموں نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ آیا ماضی میں ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے وقت کن قوانین کو مدنظر رکھا گیا تھا اور اب ان کی واپسی کے لیے کون سے قانونی اور انتظامی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے مسائل سے بچا جا سکے۔

سابق اراکین کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کا یہ مسلسل استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں انتظامی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ کی جانب سے ان تمام افراد کی فہرستیں دوبارہ تیار کی جا رہی ہیں جن کے پاس تاحال سرکاری تحویل کی گاڑیاں موجود ہیں۔

مختلف حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران سرکاری مشینری اور وسائل کا درست سمت میں استعمال ہونا انتہائی ضروری ہے، اس لیے سابقہ دور کے لوگوں کے پاس گاڑیاں رہنا انتظامی مجبوریوں کے بھی منافی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمے کے اندرونی اجلاسوں میں بھی تبادلہ خیال جاری ہے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند دنوں کے اندر اندر متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے آ جائے گا اور تمام غیر قانونی طور پر زیرِ استعمال گاڑیوں کو تحویل میں لے کر سرکاری پول میں واپس جمع کرا دیا جائے گا تاکہ اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر صوبائی سطح پر سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور ان کے منصفانہ استعمال کے ضابطوں پر بحث چھوٹی ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو کس انجام تک پہنچاتی ہے اور کیا تمام گاڑیاں بحفاظت واپس حاصل کی جاتی ہیں یا نہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں