اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے شیشہ کیفیز کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے شیشہ کیفیز پر عائد پابندی سے متعلق جاری ہونے والے تحریری فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
انتظامی حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں روزانہ کی بنیاد پر شیشہ کیفیز اور ایسی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک بڑی تعداد میں کیفیز کو سیل کیا جا چکا ہے اور وہاں سے ممنوعہ سامان بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت کے اہم اور مصروف تجارتی علاقوں بشمول ای الیون اور بحریہ سوک سینٹر سمیت تمام سیکٹرز میں بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا مقصد شہر بھر میں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس سے بچایا جا سکے۔
انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ موصول ہونے کے بعد اب کارروائیوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو قائم رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں فیلڈ افسران کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
شیشہ کیفے کے مالکان کی جانب سے انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون یا مزاحمت کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ جو مالکان تعاون نہیں کریں گے ان کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔
شیشہ نوشی کے مضر اثرات بالخصوص نوجوان نسل کی صحت پر پڑنے والے برے اثرات کے پیش نظر اس مہم کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے تمام متعلقہ ذیلی ادارے اور پولیس اس مہم میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں سے شیشہ کیفیز کے خلاف شہریوں کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جن پر انتظامیہ نے فوری ایکشن لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ تحریری فیصلہ شیشہ نوشی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک سخت قانونی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت کی جانب سے دی گئی تشریح کے بعد انتظامیہ کے پاس کارروائی کے اختیارات مزید واضع ہو گئے ہیں۔
فیلڈ میں موجود اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود جا کر چھاپوں کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیل کیے گئے کیفیز دوبارہ کسی بھی صورت میں فعال نہ ہونے پائیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری طور پر تحویل میں لینے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں امن و امان اور صحت عامہ کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ اس لائحہ عمل کے تحت شیشہ کیفیز کے مالکان اور آپریٹرز کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انتظامی حکام کا عزم ہے کہ اسلام آباد کو شیشہ نوشی سے پاک شہر بنانے کے لیے اس مہم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے اس حوالے سے تمام کارروائیوں کی مانیٹرنگ کا عمل بھی انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔
شیشہ کیفیز کے خلاف اس تازہ ترین کریک ڈاؤن سے جڑے تمام امور کی نگرانی خود ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کر رہے ہیں تاکہ احکامات کی خلاف ورزی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آنے والے دنوں میں کارروائیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیے جانے کا بھی امکان ہے۔





اپنی رائے دیں