مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:17
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہخیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقابپاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا سیف گیمز تیاریوں کیلئے بڑا قدم2045 تک خلا میں انسانوں کی بستیوں کا امکان، جیف بیزوس کی پیشگوئیاسلام آباد میں شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہبرطانیہ میں لڑکی نے سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر دیے
پاکستان

پشاور ہائیکورٹ: سہیل آفریدی کی مبینہ حراست پر حکام سے 10 روز میں رپورٹ طلب

عدالت نے آئی جی، سی سی پی او اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر متعلقہ حکام کو سہیل آفریدی کی بازیابی اور قانونی حیثیت واضح کرنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائیکورٹ: سہیل آفریدی کی مبینہ حراست پر حکام سے 10 روز میں رپورٹ طلب

پشاور ہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست کے معاملے پر دائر درخواست پر اپنا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس اہم معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے دس روز کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عدالت میں یہ درخواست سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے، جس سے خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے باوجود کسی بھی شہری کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سہیل آفریدی کو بازیاب کرایا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے استفسار کیا کہ آیا سہیل آفریدی کسی مقدمے میں نامزد ہیں یا انہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے آئی جی خیبر پختونخوا، سی سی پی او، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ دس روز کے اندر سہیل آفریدی کی موجودگی اور ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

عدالتی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے یہ بتائیں کہ اگر سہیل آفریدی حراست میں ہیں تو کس قانون کے تحت ہیں اور ان پر کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے پر کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلی پیشی پر متعلقہ حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی روشنی میں عدالت آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی اور قانون کے مطابق فیصلہ سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ شہریوں کی بازیابی اور غیر قانونی حراست کے خلاف پشاور ہائیکورٹ ماضی میں بھی اہم احکامات جاری کرتی رہی ہے۔ عدالت کا یہ اقدام قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی کے اہل خانہ نے عدالت سے امید ظاہر کی ہے کہ عدالتی مداخلت کے بعد ان کے پیارے کی بازیابی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالتی کارروائی کے دوران وکلاء نے اس بات پر زور دیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اور انصاف کا حق دیتا ہے۔ عدالت نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات پر عدالتی نگرانی کا عمل کافی اہمیت کا حامل ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ یہ حکم نامہ انتظامیہ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی شہری کی حراست کے معاملے میں قانون کا مکمل پاس رکھے۔

آئندہ سماعت پر عدالت یہ دیکھے گی کہ آیا متعلقہ حکام نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا ہے یا نہیں۔ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو عدالت توہین عدالت یا دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کا اختیار رکھتی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

اس کیس پر عوامی حلقوں کی نظریں بھی جمی ہوئی ہیں کیونکہ شہریوں کی بازیابی کا معاملہ ایک حساس نوعیت کا حامل ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کے عزم کا اظہار کرتا ہے جس کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں