پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کی غرض سے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئندہ ساؤتھ ایشین گیمز یعنی سیف گیمز کے ایتھلیٹکس مقابلوں کے شاندار انعقاد اور بہترین تیاریوں کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کے چناؤ کے عمل کو شفاف بنانا، ان کی تربیت کے مراحل کی کڑی نگرانی کرنا اور ایونٹ کے جملہ امور کو احسن طریقے سے سرانجام دینا ہے۔ یہ خصوصی کمیٹی تمام متعلقہ امور میں منظم منصوبہ بندی کے تحت کام کرے گی تاکہ پاکستان کے کھلاڑی ان کھیلوں میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتر سکیں۔
اس نو تشکیل شدہ خصوصی کمیٹی میں ملک کے اہم اور باوقار اداروں کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ کمیٹی میں پاک فوج، پاکستان ایئر فورس اور پاک بحریہ کے علاوہ واپڈا اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نمائندے بھی شامل کیے گئے ہیں جو مل کر کھیلوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے۔
کمیٹی کی سربراہی کی ذمہ داری بریگیڈیئر ظفر محمود عباسی کو سونپی گئی ہے جو اس اہم پینل کی قیادت کرتے ہوئے تمام امور کی نگرانی کریں گے۔ ان کی سربراہی میں یہ کمیٹی تمام اداروں کے ساتھ مل کر کھلاڑیوں کی تربیت اور سلیکشن کے عمل کو بہتر بنائے گی۔
کمیٹی کے دیگر نامور اراکین میں معروف اولمپئنز اور کھیل کے ماہرین بھی شامل ہیں جو کھیلوں کے میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ ان اراکین میں اولمپئن صدف صدیقی، اولمپئن شبانہ اختر اور سلمان بٹ بھی اس خصوصی کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
کمیٹی کے اراکین میں اس کے علاوہ کموڈور شکیل حیدر، کرنل نیبل رانا، پرویز میر اور محمد ظفر بھی شامل ہیں۔ یہ تمام شخصیات اپنے متعلقہ شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور سیف گیمز کے لیے قومی تیاریوں کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ایتھلیٹس کے انتخاب میں بہتری آئے گی بلکہ ان کی تربیت کا معیار بھی بلند ہوگا۔
وفاقی حکومت کو بھی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اس اہم فیصلے اور کمیٹی کی تشکیل سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس اقدام کو سراہے جانے کی توقع ہے کیونکہ اس سے کھیلوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔
ساؤتھ ایشین گیمز خطے کا ایک انتہائی اہم کھیلوں کا میلہ ہے جس میں پاکستان کے دستے کی تیاریوں پر ہمیشہ خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس بار پی او اے نے ابتدائی مراحل ہی سے تیاریوں کا آغاز کر کے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
کمیٹی تمام صوبوں اور اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گی تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو تلاش کر کے انہیں تربیت کے بہترین مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
کھیلوں کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بروقت اقدامات ہی بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی یہ حکمت عملی آنے والے وقت میں مثبت نتائج کی حامل ہوگی۔
مختلف کھیلوں کے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کو بہتر بنانے کے لیے تمام اداروں کا اشتراک کار ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں مسلح افواج اور دیگر اداروں کے ماہرین کو اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
تمام متعلقہ ادارے مل کر کھلاڑیوں کی صلاحیتیوں کو نکھارنے کے لیے کام کریں گے تاکہ سیف گیمز میں پاکستان کا نام روشن کیا جا سکے۔ پی او اے اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔





اپنی رائے دیں