لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں مبینہ طور پر مضر صحت دودھ پینے سے ایک دو سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کا تین سالہ بھائی تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ علاقے میں کھلے دودھ کے استعمال کے بعد پیش آیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان نے محلے کی ایک دکان سے کھلا دودھ خریدا تھا جسے پینے کے بعد دونوں بچوں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ بچوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشش کی۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق دو سالہ فیضان دوران علاج جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچے کی موت مبینہ طور پر جسم میں زہر پھیلنے کے باعث ہوئی۔ واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی ہے۔
تین سالہ ذین تاحال جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں ڈاکٹرز اس کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کی حالت تاحال تشویشناک بنی ہوئی ہے اور اسے انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور فرانزک ماہرین کی ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں بھی دودھ کے نمونے حاصل کر کے ان کا لیبارٹری تجزیہ کر رہی ہیں تاکہ ملاوٹ کی تصدیق ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات میڈیکل رپورٹ اور فرانزک تجزیے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گی۔ پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
شہر میں کھلے دودھ کی فروخت اور اس کے معیار پر سوالات ایک دیرینہ مسئلہ رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً چھاپے مارے جاتے ہیں، تاہم اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مزید سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء خوردونوش انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں کے معاملے میں والدین کو چاہیے کہ وہ اشیاء کے معیار کے حوالے سے انتہائی محتاط رہیں۔
اس المناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور اہل علاقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ فروخت کرنے والے مراکز کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کو شفاف بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برتنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مقدمے میں مزید دفعات شامل کرنے کا بھی امکان ہے۔
فی الحال پولیس کی تفتیشی ٹیمیں متاثرہ خاندان کے بیانات قلمبند کر رہی ہیں اور دکانداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر معیاری اشیاء کی فروخت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر فوڈ سیفٹی کے معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر سخت ایکشن لینے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔




اپنی رائے دیں