مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 9:17
بریکنگ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاوور 50 کرکٹ ورلڈ کپ: پاکستان کی بھارت میں شرکت سے معذرتخیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغازسرطان کے خلاف جنگ: طبی تحقیق اور سماجی ذمہ داریوں کا تقاضاکراچی: سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں چھت کا پلستر گرنے سے دو خواتین اہلکار زخمیپاکستان میں منصفانہ ٹیکس نظام کا قیام ناگزیر ہے، جہاد ازورانٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصویر میں نمبر 8 کی تعداد کتنی ہے؟ہندو برادری کا نوراتری کا تہوار مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت سے جاریلاہور: مین شام نگر روڈ پر ترقیاتی کام التواء کا شکار، شہریوں کو مشکلات کا سامناخیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہوفاقی حکومت کا قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہیمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاکسعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کا حوثی حملوں کی شدید مذمت کا اعادہسینٹ کام نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید کر دی
دنیا

یمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاک

یمنی فوج نے مختلف محاذوں پر کارروائی کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے مراکز اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

یمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاک

یمن کی مسلح افواج نے ملک کے مختلف حصوں میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی اور مربوط فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں فوج نے 700 سے زائد حملے کیے ہیں جن میں باغیوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانا ہے۔ اس دوران سیکڑوں باغی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

فوجی ترجمان کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مضبوط ٹھکانوں اور اسلحہ بردار مورچوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باغیوں کے اجتماع کے مقامات اور ان کی رسد کے راستوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔

آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں، جدید ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، راکٹ لانچرز اور ماہر اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا ہے۔ ان مربوط حملوں کے نتیجے میں باغیوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ پسپائی پر مجبور ہیں۔

صوبہ تعز میں یمنی فورسز کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے جہاں باغیوں کی دفاعی لائنیں ٹوٹ چکی ہیں۔ حکومتی افواج نے اس اہم علاقے میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لی ہیں جس سے حوثیوں کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے۔

مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی یمنی فوج نے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ ان علاقوں میں باغیوں کی اضافی نفری کی تعیناتی کو روکنے کے لیے سخت ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ ان کی کمک کے ذرائع کو مکمل طور پر کاٹا جا سکے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے دوران صرف اور صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ نقصان نہ ہو۔

یمن میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تنازع کے باعث ملکی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ سرکاری فوج کی جانب سے حالیہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ ملک کے تمام حصوں میں ریاستی رٹ کو بحال کیا جائے گا اور باغیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

فوجی ماہرین کے مطابق 700 سے زائد حملوں کا یہ سلسلہ یمن کی عسکری تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے حوثی باغیوں کی عسکری صلاحیتوں کو زبردست دھچکا لگا ہے اور ان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

مقامی سطح پر بھی ان کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کو باغیوں کے جبر سے نجات ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یمنی فوج کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے علاقوں کی مکمل آزادی کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے اب تک ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ انہیں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی پسپائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرکاری فوج کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں یمنی فوج کی جانب سے مزید کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈال دیتے یا حکومتی عملداری کو تسلیم نہیں کرتے، تب تک یہ آپریشن اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔

عالمی برادری بھی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یمن میں امن و امان کی بحالی کے لیے سرکاری فوج کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں