لاہور شہر میں فضائی آلودگی کی صورتحال ایک بار پھر تشویشناک حد تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔ محکمہ ماحولیات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 169 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا ہے۔ اقبال ٹاؤن میں آلودگی کی سطح 202 تک پہنچ گئی ہے جو کہ صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دی جاتی ہے۔ اسی طرح برکی روڈ پر فضائی آلودگی کی شرح 191 ریکارڈ کی گئی ہے۔
دیگر علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو ماڈل ٹاؤن میں آلودگی کی شرح 167 اور بیدیاں روڈ پر 158 ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈی ایچ اے فیز فائیو میں بھی فضائی معیار خراب ہے جہاں انڈیکس 161 تک پہنچ چکا ہے۔
شہر کے کچھ حصوں میں آلودگی کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی ہے، جس میں عسکری ٹین کے اطراف کا علاقہ شامل ہے جہاں آلودگی کی سطح 112 ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر شہر کی فضا میں گرد و غبار اور دھویں کے اثرات واضح ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کا موجودہ درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔ موسم کی یہ کیفیت فضائی آلودگی کے ذرات کو فضا میں معلق رکھنے کا سبب بن رہی ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی لاہور میں سموگ اور فضائی آلودگی کے مسائل شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی کاموں سے اڑنے والی گرد اور فیکٹریوں کا اخراج اس صورتحال کے بنیادی اسباب ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر دمے اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال یقینی بنانا چاہیے تاکہ صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
حکومتی سطح پر بھی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور غیر قانونی طور پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے عمل کو مکمل طور پر روکنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو سخت نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہر کے فضائی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا جا سکے۔
شہر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے پیش نظر محکمہ صحت نے بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ ہسپتالوں میں سانس اور آنکھوں کی جلن کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کے لیے طبی مراکز میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
مستقبل میں فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے شجرکاری مہمات کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا آلودگی کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جس کے لیے عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔
لاہور کے رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ عوامی شعور اور انتظامی اقدامات کے اشتراک سے ہی شہر کو آلودگی کے اس خطرناک لیول سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر لاہور میں فضائی آلودگی کا مسئلہ ایک چیلنج بنا ہوا ہے جس کے لیے طویل مدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ صنعتی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے بڑھایا جائے۔





اپنی رائے دیں