اسرائیل دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کی سیاست ہمیشہ سے بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ حالیہ انتخابی عمل کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتیں میدان میں اتری ہیں اور ملک کی پارلیمنٹ کنیسٹ کی نشستوں کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ساتویں مرتبہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ تاہم غزہ جنگ، ایران اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ محاذ آرائی اور سکیورٹی امور پر اٹھنے والے سوالات کے باعث ان کی پوزیشن کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی کل ایک سو بیس نشستیں ہیں اور متناسب نمائندگی کے نظام کی وجہ سے کسی بھی ایک جماعت کے لیے اکیلے حکومت بنانا مشکل ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیشہ مخلوط حکومتیں ہی تشکیل پاتی ہیں اور چھوٹی جماعتوں کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔
مقبوضہ علاقوں اور غزہ کے فلسطینی باشندے اسرائیلی شہری نہ ہونے کی وجہ سے ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھتے۔ البتہ مقبوضہ علاقوں میں آباد اسرائیلی اس عمل کا حصہ بنتے ہیں جبکہ عرب جماعتوں کی شرکت بھی اس بار اہم سمجھی جا رہی ہے۔
بنجمن نیتن یاہو کی قیادت والی لیکوڈ پارٹی روایتی طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کی حامی رہی ہے۔ ان کی پالیسیوں کے مخالفین کی جانب سے بھی انتخابی مہم میں مختلف نکات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جانب سے قائم کردہ پارٹی بھی انتخابی میدان میں موجود ہے جو رائے عامہ کے جائزوں میں نمایاں پوزیشن رکھتی ہے۔ یہ جماعت نیتن یاہو کی غزہ پالیسی اور یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر پر تنقید کرتی چلی آ رہی ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا کردار بھی اسرائیلی سیاست میں ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے جن میں سکیورٹی اور مالیاتی امور سے وابستہ سابق وزرا کی جماعتیں شامل ہیں۔ یہ عناصر مذہبی بنیادوں پر حکمرانی اور سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔
سابق وزرا اعظم نفتالی بینیٹ اور یائیر لابید نے بھی انتخابات کے لیے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دیا ہے تاکہ نیتن یاہو کے مخالف ووٹوں کو تقسیم ہونے سے روکا جا سکے۔ لابید سیکولر وسط پسند سیاست کے حامی مانے جاتے ہیں۔
بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی بھی انتخابی عمل میں شریک ہے جو غزہ کی صورتحال اور پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ عرب جماعتوں کا اتحاد جوائنٹ لسٹ بھی پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عرب قیادت پر مشتمل رعام پارٹی بھی الگ سے انتخابی میدان میں ہے جو معتدل سیاسی رویے کے ساتھ سماجی امور پر قدامت پسندانہ سوچ رکھتی ہے۔ اس جماعت نے انتخابی عمل میں شمولیت کے لیے نئے اقدامات بھی کیے ہیں۔
انتہائی مذہبی یہودی جماعتیں جیسے کہ شاس اور یونائیٹڈ توارہ یہودیت بھی اسرائیلی سیاست کا اہم حصہ ہیں۔ یہ جماعتیں مذہبی طرز زندگی اور روایتی اقدار کی بقا کے ساتھ ساتھ عسکری خدمات سے استثنا کے امور پر زور دیتی ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں اور سیاسی تجزیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے تمام جماعتوں کو اتحاد کا سہارا لینا پڑے گا۔ کوئی بھی اکیلی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔
مختلف جماعتوں اور اتحادوں کے درمیان جاری اس کشمکش کے باعث آئندہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے حتمی نتائج کا انحصار انتخابات کے بعد بننے والے اتحادوں پر ہوگا۔ تمام سیاسی فریقین اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔




اپنی رائے دیں