مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آراسرائیلی پارلیمانی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف جماعتوں کی پوزیشنوزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکولوں کے فروغ پر زورکراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمیلاہور: گلاب دیوی اسپتال میں ڈاکٹر اور مریض کے لواحقین میں جھگڑا، دو خواتین گرفتارملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دیروزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہےکراچی میں نوجوان گلوکارہ ایمن زارا کی پہلی سولو پرفارمنسغزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےحکومتی قرضوں میں روزانہ اضافے کی خبر نامکمل اور گمراہ کن ہے: وزارتِ خزانہحکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا
دنیا

غزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگ

غزہ میں تعیناتی کے لیے مراکش کے 500 تک فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دی گئی ہے۔

غزہ کیلیے عالمی فورس کی تیاری، امریکی قیادت میں مراکش کے 500 اہلکاروں کی خصوصی ٹریننگ

امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی استحکامی فورس کے تحت غزہ میں تعیناتی کی غرض سے مراکش کے تقریباً پانچ سو فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کو خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں تربیت کا آغاز اگست کے اواخر میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا اور امن و امان کے قیام میں مدد دینا ہے۔

اس تربیتی عمل کے پہلے مرحلے میں مراکش کی فوج کے سینیئر افسران اور تربیت کاروں کو شامل کیا گیا تھا جبکہ بعد ازاں مزید اہلکاروں کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کی زیر نگرانی چلنے والے اس پروگرام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن فورس کو فعال بنانا ہے جو غزہ کے امور میں اہم کردار ادا کرے گی۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری کے مہینے میں مراکش نے غزہ میں اپنے پولیس اور فوجی اہلکار بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا اور وہ ایسا اعلان کرنے والا پہلا عرب ملک بنا تھا۔ مراکش کے علاوہ البانیہ، قازقستان اور کوسوو جیسے ممالک نے بھی اس مجوزہ امن فورس کے لیے اپنے اہلکار فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

تاہم بین الاقوامی استحکامی فورس کی حتمی تعیناتی اور متعلقہ انتظامی امور میں مختلف رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی منظوریوں کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امن بورڈ کے ایک عہدیدار کے مطابق اس فورس کی تیاری کے باوجود تمام امور کو حتمی شکل دینے میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔

دوسری جانب غزہ میں بے گھر فلسطینی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت سے شروع کیے جانے والے رہائشی منصوبے پر بھی اب تک انتہائی محدود پیش رفت ہو سکی ہے۔ اس منصوبے کے تحت متاثرہ خاندانوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا مگر زمینی حقائق کی وجہ سے کام سست روی کا شکار ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے اور غزہ کو عسکری صلاحیت سے پاک کرنے تک تعمیرِ نو کے کسی بھی بڑے منصوبے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سخت مؤقف کی وجہ سے خطے میں بحالی کے کاموں میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

امریکہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ امن بورڈ کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ مجوزہ بین الاقوامی فورس کے اڈے کی تعمیر کا کام بھی التوا کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کے بنیادی نوعیت کے منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں۔

غزہ پیس بورڈ کے عہدیدار نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد ان رکے ہوئے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز ہو سکے گی۔ انتخابی عمل کے اختتام کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی رہنمائی میں غزہ کے لیے ایک خصوصی امن فورس کی تشکیل کا عمل جاری ہے جس میں دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس تمام مشق کا مقصد طویل المدتی بنیادوں پر خطے کے حالات کو قابو میں رکھنا اور انتظامی امور کو سنبھالنا ہے۔

عالمی سطح پر اس امن فورس کی تیاری اور اس میں شامل ہونے والے ممالک کے اقدامات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اس حساس ترین خطے میں دیرپا استحکام کی راہیں استوار کی جا سکیں۔ تمام متعلقہ فریقین اس حوالے سے سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امن بورڈ کے ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مراکشی دستوں کی تربیت کے دوران درپیش تکنیکی اور انتظامی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے بھی مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نپٹا جا سکے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے عائد کردہ سکیورٹی شرائط اور انتظامی ضابطوں کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کو توقع کے مطابق آگے بڑھانا ناممکن ہو رہا ہے جس کا اثر عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑ رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی ان تمام کوششوں کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آئندہ آنے والے ایام میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر کون سے نئے لائحہ عمل اختیار کیے جاتے ہیں اور فریقین میں کیا طے پاتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں