ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور شدید سردی کے پیش نظر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں یہ اہم ایندھن چھ سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری نرخوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے صارفین سے من مانے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔
صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں ایل پی جی کے نرخ پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت دو سو اناسی روپے مقرر کی گئی تھی مگر اس پر عمل درآمد کرانے میں ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں جاری اس مبینہ لوٹ مار پر ریگولیٹری اتھارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔
بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی خاطر سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لائے۔
حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تردید یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اس کالے بازاری اور مہنگے داموں فروخت کے رجحان میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔
مٹی کے تیل اور لکڑی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد غریب اور متوسط طبقہ مجبوری کے تحت ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہے جو اب ان کی پہنچ سے بھی باہر ہوتی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی اور پائیدار پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات مناسب نرخوں پر میسر آ سکیں۔
ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
ملک میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں یہ تفاوت کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر سال سردیوں کے موسم میں بالائی علاقوں کے باسیوں کو اس قسم کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں نے بھی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو اس مہنگائی کے طوفان سے کسی حد تک نجات مل سکے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اقدامات متوقع ہیں تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں