اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کی ہے۔ یہ اپیلیں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
عدالت عالیہ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شارخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل کا آغاز کیا۔
سماعت کے دوران وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے، لہذا ٹرائل کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فرد جرم عائد کرتے وقت ان کی ذاتی موجودگی کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرد جرم ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے اور اس میں قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہو رہا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پہلے کارروائی ویڈیو لنک پر ہوتی تھی تاہم اب جیل ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور ملزمان کو درکار دستاویزات نہیں ملیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ فرد جرم پر ملزمان کے دستخط موجود نہیں ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے موجودگی اور وکیل کی حاضری ریکارڈ پر موجود ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کے آنے کے بعد معاملے کو مزید تفصیل سے دیکھا جائے گا۔ اس سے قبل، انسداد دہشت گردی عدالت میں بھی کیس کی سماعت ہوئی جہاں ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔
اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر استغاثہ کے کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا، جس کے بعد عدالت نے سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر بیریئر ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ملزمان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔
عدالت عالیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے بعد اب آئندہ سماعت پر فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹرائل کورٹ کی کارروائی اور قانونی نکات پر ہائیکورٹ کا فیصلہ کیس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
ملزمان کے وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں ٹرائل کا طریقہ کار شفاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس کی ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے پر دفاعی وکلاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے مزید احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ عدالتی عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہو اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔





اپنی رائے دیں