مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملہ، گاڑی پر فائرنگ سے مداح تشویش میں مبتلاآزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقابخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیکینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے: طارق فضل چودھریاسحاق ڈار کی ایرانی اور مصری ہم منصبوں سے ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیالمدر آف آل بم کا نام، ایران کی امریکی تہذیب پر تنقیدسلمان علی آغا کی سری لنکا کیخلاف سنچری، جشن کے منفرد انداز کی وضاحت کر دیایران کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہارسندھ میں مواصلاتی منصوبوں کی تکمیل اور ساحلی ترقی وقت کی اہم ضرورتحکومتِ پنجاب کی لیہ میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کی منظوریاقوام متحدہ اور ذیلی اداروں میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے شاندار مواقع
دنیا

ایران کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی اتحاد کو خطے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایران کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس دفاعی اتحاد کے عمل کا حصہ بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کو ابھی تک اس معاہدے کے فیصلوں اور طریقہ کار کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

ایرانی صدر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مابین قائم ہونے والے دفاعی اتحاد کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے علاقائی اتحاد خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان ثالثی کروانے کی پیشکش کو بھی دہرایا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی مذاکرات اور مفاہمت ناگزیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے موقع پر یمن میں امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو مل کر تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔

خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مختلف عالمی میڈیا رپورٹس میں بھی ایران کے کردار پر تبصرے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایران کا سرکاری موقف ہمیشہ علاقائی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ پر مرکوز رہا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے اہم ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں ایران کی شمولیت کی خواہش کو سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے۔ ان ممالک کا مشترکہ مقصد خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔ یہ اتحاد خطے کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ تہران کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں کمی دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے اور بات چیت کا عمل خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہو رہا ہے۔

مستقبل میں اس دفاعی معاہدے کی وسعت اور اس میں شامل ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ کار مزید واضح ہوگا۔ ایران کی شمولیت سے اس اتحاد کی اہمیت اور اثر انگیزی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور تمام برادر اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور خوشحالی کا فروغ ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں