ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس دفاعی اتحاد کے عمل کا حصہ بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کو ابھی تک اس معاہدے کے فیصلوں اور طریقہ کار کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
ایرانی صدر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مابین قائم ہونے والے دفاعی اتحاد کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے علاقائی اتحاد خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس موقع پر ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان ثالثی کروانے کی پیشکش کو بھی دہرایا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی مذاکرات اور مفاہمت ناگزیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے موقع پر یمن میں امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو مل کر تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مختلف عالمی میڈیا رپورٹس میں بھی ایران کے کردار پر تبصرے کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایران کا سرکاری موقف ہمیشہ علاقائی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ پر مرکوز رہا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے اہم ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس میں ایران کی شمولیت کی خواہش کو سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعلقات میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے۔ ان ممالک کا مشترکہ مقصد خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اس معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔ یہ اتحاد خطے کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ تہران کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں کمی دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے اور بات چیت کا عمل خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہو رہا ہے۔
مستقبل میں اس دفاعی معاہدے کی وسعت اور اس میں شامل ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ کار مزید واضح ہوگا۔ ایران کی شمولیت سے اس اتحاد کی اہمیت اور اثر انگیزی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور تمام برادر اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور خوشحالی کا فروغ ہے۔





اپنی رائے دیں