یمن میں جاری طویل خانہ جنگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں روس کی جانب سے اپنایا گیا سفارتی مؤقف عالمی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماسکو اس تنازع میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی جائز حکومت کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ساتھ ہی حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کے ساتھ بھی ان کے طویل عرصے سے دوستانہ اور سفارتی رابطے قائم ہیں۔ یہ دوہرا رویہ روس کو خطے میں سٹریٹجک رسائی فراہم کرتا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے حوثی نمائندوں کے ساتھ رابطے معمول کا حصہ ہیں۔ رواں برس کے دوران حوثی وفود نے ماسکو کا دورہ کیا اور روسی حکام سے ملاقاتیں کیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب روس نے عدن میں اپنی قونصلر سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز ہے۔ اس اقدام کو یمن کی جائز حکومت کے لیے ایک علامتی کامیابی اور حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
روسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یمن تنازع سے روس کو کئی تزویراتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس سے روسی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ باب المندب کے راستے سمندری تجارت متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یوکرین جنگ کے تناظر میں بھی یمن کی صورتحال روس کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس تنازع نے امریکہ اور مغربی ممالک کی توجہ یوکرین سے ہٹا کر مشرق وسطیٰ کی جانب مرکوز کر دی ہے، جو ماسکو کے لیے ایک سیاسی موقع ہے۔
روس نے سعودی عرب کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں جنگ بندی، دشمنی کے خاتمے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔
حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں روسی جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی دونوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک کڑی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، روس نے عوامی سطح پر سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔
روس کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے باوجود، تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر ماسکو کو اس کردار کے لیے مدعو نہیں کیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خود کو کسی پر مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ پرامن حل کے خواہاں ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے ساتھ بھی روس کے رابطے جاری ہیں۔ یہ گروپ جنوبی یمن میں اپنی الگ شناخت کے لیے کوشاں ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ روس یمن کے تمام اہم دھڑوں تک رسائی رکھتا ہے۔
روسی میڈیا اور بلاگرز کے مطابق، حوثیوں کی بحری کارروائیاں ان کے زیر کنٹرول علاقے کے حجم سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی صلاحیتوں نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے راستوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کا فائدہ روس کو مل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی یہ پالیسی انتہائی محتاط ہے تاکہ وہ سعودی عرب کو ناراض کیے بغیر حوثیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھ سکے۔ ماسکو کا مقصد خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور عالمی سیاست میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا ہے۔
مستقبل میں یمن کا تنازع کس رخ پر جائے گا، یہ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم روس کی جانب سے اپنایا گیا یہ توازن برقرار رکھنے کا طریقہ کار اسے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔





اپنی رائے دیں