پشاور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے اور تعلیمی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین اور مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے صوبے میں تعلیمی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔
پہاڑی اور میدانی علاقوں میں واقع سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتیں دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈر بن چکی ہیں جہاں طلباء اور طالبات کو پڑھائی کے لیے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ ان اسکولوں میں طویل عرصے سے مرمت اور دیکھ بھال کا کوئی کام نہیں کیا گیا جس سے عمارتیں خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد انتظامیہ کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ ان ویڈیوز نے سابقہ دورِ حکومت میں تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے کیے جانے والے بلند و بانگ دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔
والدین اور علاقہ مکینوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے لیکن ذمہ داران اس سنگین مسئلے سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مختلف علاقوں کے اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب فرنیچر کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے اور طلباء کھلے آسمان تلے یا برآمدوں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ سردی اور گرمی سے بچاؤ کے لیے کمروں میں مناسب انتظامات نہ ہونے سے بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔
پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت بھی بہت سے سرکاری اسکولوں میں ناپید ہے جس سے طلباء اور اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ خستہ حال چھتیں اور ٹوٹے ہوئے دروازے اور کھڑکیاں تعلیمی اداروں کی زبوں حال تصویر پیش کر رہے ہیں۔
موسمی شدت کے دنوں میں اسکولوں کی چھتیں ٹپکنے لگتی ہیں اور بچے سخت موسم میں بھی خراب حالت میں موجود برآمدوں میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ایسے ماحول میں بچوں کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
والدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کئی بار ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے حکام کو ان مسائل سے تحریری اور زبانی آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کا شکوہ ہے کہ غریب بچوں کے لیے بنے ان اداروں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان تباہ حال اسکولوں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیرِ نو کی جائے اور تمام ضروری سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی ضامن ہے اور اس میں غفلت ناقابلِ برداشت ہے۔
صوبائی حکومت اور محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران کو اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے تاکہ سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ انتظامیہ اس دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
تعلیمی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب تک بنیادی تعلیم کے نظام کو درست نہیں کیا جاتا اس وقت تک ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے۔ سرکاری اسکولوں میں بہتری لائے بغیر خواندگی کے تناسب کو بڑھانا ممکن نہیں ہوگا۔
اسکولوں کی اس دلخراش حالت پر سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی بحث شروع ہو چکی ہے جہاں سول سحر کے نمائندے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہریوں کا اصرار ہے کہ بچوں کے اسکولوں کی بحالی کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے جائیں۔
حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے جامع حکمت عملی سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ اسکولوں کی بحالی کا کام جلد از جلد شروع ہو سکے۔ والدین اور طلباء کی نظریں اب نئی انتظامیہ کے فیصلوں پر مرکوز ہیں۔





اپنی رائے دیں