مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:16
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشپاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں راولپنڈی میں آمنے سامنےکراچی: رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، بین الصوبائی انسانی اسمگلر گرفتاردانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریفاسلام آباد میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر ہفتہ وار بازار غیرمعینہ مدت کے لیے بندپیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں داخلوں کا نیا ریکارڈ قائماسلام آباد کے اتوار بازار فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر بند، دکانداروں کا احتجاجکوئٹہ کی پولیو متاثرہ پلوشہ شہزادی نے ہائی کورٹ کی وکیل بن کر تاریخ رقم کر دیخیبرپختونخوا: سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکارآٹھ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے پریم وتس بینک خریدنے کے قریبقاضی توقیر کے ستارے چمک اٹھے، ساجد خان کی جانب سے گانوں کی پیشکشسانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زوربالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے کرینہ کپور کو کتنی بار پروپوز کیا؟نیشنل بینک آف پاکستان کا اپنی ڈیپارٹمنٹل ہاکی ٹیم بحال کرنے کا فیصلہون ڈے ٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور جدید سازوسامان کی سمری گورنر کو ارسالپاکستان اور انگلینڈ کا میچ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے نامیاسر حسین کا سجل اور زارا کی انسٹاگرام پر واپسی پر دلچسپ تبصرہ
پاکستان

دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ذہانت کسی خاص طبقے کی میراث نہیں، مستحق طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

دانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دانش اسکول کا نظام معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ اور عملی کوشش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دانش اسکول کی ایک پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس موقع پر تقریب میں موجود تمام طلبہ، ان کے والدین اور ان کے اساتذہ کی انتھک خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب کے دوران بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی دستاویزی فلموں اور بچوں کی کامیابی کی دردناک مگر پرامید کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مناظر دل کو چھونے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بھی ہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا جس نے کم عمری میں ہی اپنے والد کا سایہ کھو دیا تھا۔

وزیراعظم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ والد کی وفات کے بعد اس بچی کے تعلیمی خواب ادھورے رہ جانے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ خاندان کے پاس کسی بھی قسم کے مالی وسائل کی شدید کمی تھی۔ اس کے باوجود اس باحوصلہ بچی نے نامساعد حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل محنت سے اپنی منزل حاصل کی تاکہ بڑی ہو کر انسانیت کی خدمت کر سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی تمام کامیابیاں اس اٹل حقیقت کو واضح انداز میں اجاگر کرتی ہیں کہ ذہانت اور قابلیت کبھی بھی کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کی جانب سے ملک کے ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں اور منصفانہ مواقع میسر کیے جائیں۔

شہباز شریف کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ بچے کا تعلق ملک کے کسی امیر ترین گھرانے سے ہے یا پھر ایسے پس ماندہ خاندان سے جس نے زندگی کی کٹھن راہوں میں اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔ پاکستان کے اندر لاکھوں خاندان ایسے آباد ہیں جو کھیتوں میں دن رات محنت کرتے ہیں۔

کسانوں اور محنت کشوں کی ماہانہ آمدنی اتنی محدود ہوتی ہے کہ اس سے بم مشکل گھر کے روزمرہ اخراجات پورے ہو پاتے ہیں، اور ایسے کٹھن پس منظر میں بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک بہت بڑا اور کٹھن چیلنج بن جاتا ہے۔ اگر غریب گھرانوں کے بچے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں تو یہ بہت بڑی معاشرتی ناانصافی ہے۔

وزیراعظم نے گہرے دکھ کے ساتھ نشاندہی کی کہ اگر ایک طرف غریب گھرانوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہیں اور دوسری طرف صاحبِ ثروت طبقے کے بچے ملکی اور غیر ملکی بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کریں تو یہ معاشرتی عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اسی فرق کو ختم کرنے کے لیے دانش اسکولوں کا تصور عمل میں لایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ پنجاب کے صوبے میں دانش اسکولوں کے اس اہم فلاحی منصوبے کا آغاز سال 2010 میں کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد پس ماندہ اور دور دراز علاقوں کے مستحق بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ اس منصوبے کا اصل ہدف یہ تھا کہ غریب بچے بھی اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قیامِ پاکستان کے سنہری دور اور اس وقت کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1947 میں ہجرت کر کے آنے والوں نے اپنے تمام گھر بار چھوڑے تھے مگر ان کی امیدیں ایک ایسے خطے سے جڑی تھیں جہاں میرٹ اور انصاف کا بول بالا ہو۔ آج ہمیں بطور قوم خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔

ہمیں سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے اکابرین اور بزرگوں کے ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے میں کہاں تک کامیاب ہو پائے ہیں جو انہوں نے اس ملک کے لیے دیکھے تھے۔ پاکستان میں ترقی اور تعلیم کے مواقع کسی بھی بچے کی مالی حیثیت یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر طے نہیں ہونے چاہئیں۔

دانش اسکول ملک کے ایسے تمام ہونہار بچوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن کی حیثیت رکھتے ہیں جو مناسب وسائل ملنے پر اپنی ذاتی زندگیاں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بچے نہ صرف اپنے خاندانوں کا معاشی سہارا بنتے ہیں بلکہ ملکی ترقی اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں طلبہ اور ان کے والدین کے علاوہ اساتذہ، وفاقی وزرا، مختلف برادر ممالک کے سفارت کاروں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے اس تعلیمی اقدام کو سراہا اور اسے غریب طبقے کے لیے امید کا بڑا سہارا قرار دیا گیا۔

حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں مستحق اور ذہین بچوں کے لیے تعلیمی دروازے کھولے جائیں گے تاکہ طبقاتی تفریق کو کم کیا جا سکے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط ہو۔ اسکولوں کا یہ نیٹ ورک ملک میں تعلیمی انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں