مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:37
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکدانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریفاسلام آباد میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر ہفتہ وار بازار غیرمعینہ مدت کے لیے بندپیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں داخلوں کا نیا ریکارڈ قائماسلام آباد کے اتوار بازار فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر بند، دکانداروں کا احتجاجکوئٹہ کی پولیو متاثرہ پلوشہ شہزادی نے ہائی کورٹ کی وکیل بن کر تاریخ رقم کر دیخیبرپختونخوا: سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکارآٹھ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے پریم وتس بینک خریدنے کے قریبقاضی توقیر کے ستارے چمک اٹھے، ساجد خان کی جانب سے گانوں کی پیشکشسانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زوربالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے کرینہ کپور کو کتنی بار پروپوز کیا؟نیشنل بینک آف پاکستان کا اپنی ڈیپارٹمنٹل ہاکی ٹیم بحال کرنے کا فیصلہون ڈے ٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور جدید سازوسامان کی سمری گورنر کو ارسالپاکستان اور انگلینڈ کا میچ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے نامیاسر حسین کا سجل اور زارا کی انسٹاگرام پر واپسی پر دلچسپ تبصرہاوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
پاکستان

سانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زور

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی تاریخی وطن واپسی کے موقع پر ہونے والے کارساز دھماکے کے انیس برس بیت گئے۔

سانحہ کارساز کو انیس برس مکمل، بلاول بھٹو کا جمہوریت کے تسلسل پر زور

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن شہید بینظیر بھٹو کی تاریخ ساز وطن واپسی کے موقع پر کراچی میں پیش آنے والے کارساز خودکش دھماکے کو انیس برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اس المناک واقعے کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں شہداء کی قربانیوں کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی کے زیراہتمام مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔

اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کا وہ دن ملکی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب بینظیر بھٹو طویل جلاوطنی ختم کر کے کراچی پہنچی تھیں جہاں ان کے استقبال کے لیے عوام کا سمندر امڈ آیا تھا۔ اسی جلوس کے دوران کارساز کے مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے ہولناک خودکش حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جیالے اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی انیسویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ انتہاپسندی اور تشدد کسی بھی صورت میں ہماری جمہوری جدوجہد کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی کے وابستگان نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس وقت شہید بینظیر بھٹو کی بھرپور حفاظت کی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ شہداء کی یاد منانا دراصل جمہوریت اور قربانی کے اس عہد کی تجدید کرنے کے مترادف ہے جو ہم نے عوام سے کر رکھا ہے۔ آئین کی مکمل بالادستی، جمہوری اداروں کا استحکام اور عامتہ الناس کے بنیادی حقوق کا حصول ہمارے مشن کا بنیادی حصہ ہے جس کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

کراچی میں بھی سانحہ کارساز کے شہداء کی یادگار پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا جہاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ضلع شرقی کے زیر اہتمام ایک خصوصی دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی اور مقامی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کسی بھی قسم کی دھمکیوں یا خائف کرنے والے عناصر کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وقار مہدی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہید بینظیر بھٹو کی جرات اور بہادری پوری قوم کے لیے ایک روشن مثال ہے جنہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کارکنان اپنے قائدین کے ویژن پر کاربند رہتے ہوئے جمہوری اقدار کی پاسداری جاری رکھیں گے۔

کارساز کا یہ واقعہ پاکستانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک کی سیاسی فضا کو گہرا متاثر کیا لیکن اس کے باوجود سیاسی کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ سانحہ کے متاثرین اور شہداء کے لواحقین آج بھی اس دن کو انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں اس قربانی کو فراموش نہ کریں۔

ملک بھر کے سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی اس برسی کے موقع پر سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم کو دہرایا جا رہا ہے۔ جمہوریت پسند قوتیں اس دن کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھتی ہیں کہ قربانیاں دے کر ہی ملک میں آئینی نظام کو بچایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں بھی دعائیہ تقریبات منعقد کیں گئیں جن میں شہداء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بینظیر بھٹو کا مشن ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

تاریخ کے اس کٹھن موڑ پر پارٹی قیادت اور جیالوں کا اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی کارکن جمہوری اصولوں کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کارساز کے شہداء کی قربانیوں نے ملکی تاریخ میں جمہوریت کی شمع کو روشن رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

رہنماؤں نے اپنے خطابات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن شہید بینظیر بھٹو کے افکار کی روشنی میں ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھیں گے۔

انیسویں برسی کے موقع پر کراچی سمیت ملک بھر میں سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ تقریبات پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوں۔ تمام سیاسی مبصرین نے اس سانحے کو پاکستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سنگ میل قرار دیا ہے جس نے سیاسی عمل کو نئی سمت دی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں