جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیان پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن بزرگ سیاستدانوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اسلم غوری کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو سخت الفاظ استعمال کرنے سے پہلے ماضی کے واقعات کو یاد رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب مریم نواز مشکل وقت سے گزر رہی تھیں اور ان کی گرفتاری کے مراحل تھے، تب مولانا فضل الرحمان نے انہیں بیٹی کہہ کر ان کی حمایت کی تھی۔ جے یو آئی کے کارکنان نے بھی اس دور میں ان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔
ترجمان جے یو آئی نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز کو مولانا فضل الرحمان کے کسی موقف سے اختلاف تھا تو وہ انہیں براہ راست فون کر کے بھی اپنی بات پہنچا سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی کرسی انسان کو بہت کچھ بھلا دیتی ہے، لیکن سیاسی تعلقات اور پرانے احسانات کو فراموش کرنا درست رویہ نہیں ہے۔
اسلم غوری نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان کا قد کاٹھ اور ان کی سیاسی خدمات مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ سربراہ جے یو آئی ان کے والد کے برابر ہیں اور ان کا احترام ہر صورت میں قائم رہنا چاہیے۔
پروگرام کے دوران اسلم غوری نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ صرف میڈیا میں رہنے کے لیے غیر ضروری بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ خواجہ آصف کو اب عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے تاکہ معاملات بہتر انداز میں چل سکیں۔
جے یو آئی کے ترجمان نے طلال چوہدری کے بیانات کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ انہیں کسی پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنے سیاسی قد اور ماضی کے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنے والے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسلم غوری نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال کی وجوہات پارلیمنٹ کے سامنے رکھے اور حقائق کو عوام سے نہ چھپائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر کی تعیناتی پر بھی اسلم غوری نے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن شخصیات کو صوبے کے اہم عہدوں پر بٹھایا گیا ہے، ان کی سیاسی تاریخ اور کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے فیصلوں سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔
اسلم غوری نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا خیبر پختونخوا میں کوئی خاص سیاسی کردار نہیں ہے، اس لیے وہاں کے معاملات کو چلانے کے لیے نااہل افراد کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوامی مینڈیٹ اور زمینی حقائق کا احترام کرنا چاہیے۔
ترجمان جے یو آئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بات کرتے ہیں۔ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں تو پارلیمنٹ کے فورم پر ان کے ساتھ بحث کی جائے، نہ کہ باہر بیٹھ کر غیر ضروری بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی اپنی اصولی سیاست پر قائم رہے گی اور کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنے موقف کا اظہار کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں تلخی پیدا کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اسلم غوری نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی حملوں کے بجائے قومی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ملکی استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی رہنما اپنے بیانات میں احتیاط برتیں گے اور باہمی احترام کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔





اپنی رائے دیں