وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے گزشتہ روز لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران دیے گئے بیان پر سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کسی مخصوص جماعت کا نام لیے بغیر اشارہ کیا تھا کہ گورنر راج اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا تھا کہ یہ وہی سیاستدان ہیں جو ماضی میں دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے اور اپنی جماعت کے ہوائی ٹکٹ تک وہیں سے بنواتے تھے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سیاستدانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا۔
اس بیان کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے کسی جماعت کا نام نہیں لیا، تاہم میڈیا میں ان کی باتوں کو مولانا فضل الرحمان یا اے این پی سے جوڑا جا رہا ہے۔
اسلم غوری نے مزید کہا کہ رانا ثنا اللہ نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور حقائق سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2024 کے انتخابات کے بعد حکومتی اتحاد کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔
جے یو آئی کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ حکومت سازی کے عمل کے دوران حکومتی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو لاہور آنے کی دعوت دی تھی، لیکن انہوں نے اپوزیشن میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس دعوت کے وقت موجود تھے۔
اسلم غوری نے سوال اٹھایا کہ وزیر داخلہ کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے کہ ان کا اشارہ کس کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا محسن نقوی چاہتے ہیں کہ جے یو آئی لانگ مارچ کا اعلان کرے، کیونکہ ایسے بیانات سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان موجودہ سیاسی ماحول میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان نے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعلقات پر نئے سوالات کو جنم دیا ہے، جس پر مختلف جماعتیں اپنے اپنے انداز میں ردعمل دے رہی ہیں۔
جے یو آئی کی جانب سے اس بیان کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیاست میں اس طرح کی تلخیاں ملک کے لیے سودمند نہیں ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور کسی بھی غیر مصدقہ الزام کو مسترد کرتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس بیان کے اثرات مزید واضح ہوں گے اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرح کے بیانات اور ان پر ردعمل کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی مختلف جماعتوں کے درمیان اس طرح کی نوک جھونک ہوتی رہی ہے، جس سے سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام نے اپنے بیان میں حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملکی مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلم غوری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کرے جو سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کسی کا نام نہیں لیا تھا، جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیر داخلہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مزید وضاحت سامنے آتی ہے یا نہیں۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام ہی ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے، جس کے لیے باہمی افہام و تفہیم ضروری ہے۔





اپنی رائے دیں