کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب پولیس نے ایک رہائشی بنگلے پر بھاری نفری کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہم سیاسی شخصیت کے عزیز کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آ گیا جو انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی درخشاں پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے انجام دی، جہاں پولیس کی بڑی تعداد نے خیابان راحت میں واقع ایک بنگلے کا رخ کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ ایک مبینہ منشیات فروش کی گرفتاری اور اس کی نشاندہی پر عمل میں لایا گیا۔
پولیس حکام کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں پکڑے گئے ملزم سے تفتیش کے دوران اس مقام کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران مبینہ طور پر منشیات بھی برآمد کی گئی اور موقع سے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا۔
چھاپے کے دوران کی فوٹیج اور ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کارروائی کرتے اور ایک شخص کو تحویل میں لے کر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور معاملے کی نوعیت کے پیش نظر اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا۔
کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کے بھائی میر آزاد جاکھیرانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔ اس ویڈیو بیان میں انہوں نے پولیس کی اس کارروائی اور اپنے گھر پر چھاپے سے متعلق سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔
میر آزاد جاکھیرانی نے اپنے وائرل ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ان کے اپنے بھائی اور رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کی ایما پر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جائیداد کے خاندانی تنازع کی وجہ سے ان کے گھر پر یہ چھاپہ لگوایا گیا۔
ویڈیو میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ پولیس کارروائی کے دوران خالد جاکھرانی نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے اور یہ سب کچھ ذاتی عناد اور انا کی تسکین کے لیے کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا اصل مقصد قانونی نہیں بلکہ خاندانی جائیداد کا تنازع ہے۔
واقعے کے بعد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بنگلے پر کی گئی اس چھاپے اور اس میں سامنے آنے والے جائیداد کے تنازع کے الزامات کے حوالے سے مزید انکوائری کی جا رہی ہے۔ پولیس کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کارروائی کے پس منظر میں حقائق کیا ہیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق اس امر کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کہ آیا اس کارروائی کا تعلق واقعی کسی مجرمانہ سرگرمی سے تھا یا اس میں کوئی گھریلو یا ذاتی تنازع ملوث ہے۔ قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے معاملے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری رکھی جائے گی۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کے واقعات اکثر میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، خصوصاً جب اس میں کسی سیاسی شخصیت کا نام جڑا ہو۔ اس واقعے نے بھی سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔
پولیس کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے اور منشیات کے خلاف کارروائیاں کسی امتیاز کے بغیر جاری رکھی جاتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی اصل حقیقت واضح ہو سکے گی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس واقعے کی ویڈیوز اور بیانات تیزی سے پھیل رہے ہیں جن پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
متعلقہ محکمے کے اعلیٰ حکام نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی زیادتی یا قانون کے غلط استعمال سے بچا جا سکے۔ پولیس کی جانب سے مزید حقائق جلد سامنے لائے جانے کی توقع ہے۔




اپنی رائے دیں