مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:16
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیذوالقرنین خان مرحوم: دیانت، اصول پسندی اور روشن عدلیہ کی میراثبالی ووڈ فلم کھوسلہ کا گھونسلہ 2 کی ریلیز تاریخ تبدیلمعمر رانا نے جذباتی انداز میں طلاق اور ازدواجی زندگی کے خاتمے کی تصدیق کر دیروس اور امریکا کے درمیان ڈیزل معاہدے سے اقتصادی تعلقات میں بڑی پیشرفتکراچی میں ایف آئی اے کی کارروائی، بینک منیجر سمیت 5 ملزمان گرفتارمراد سعید افغانستان سے خیبر پختونخوا حکومت چلا رہے ہیں: رانا ثنا اللہوزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے اعلیٰ عہدیدار سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگوامریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ، دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفتامریکی عدالت کا وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ معطلصدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیاچھیاسٹھ سال پرانی سائنسی تحقیق میں تیرہ نومبر دو ہزار چھبیس کا تذکرہپنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاریمعاشی اشاریے بہتر، زرمبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وزیر خزانہ
دنیا

امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ، دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفت

امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل کی سپلائی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے اقتصادی تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔

امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ، دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفت

امریکا اور روس کے مابین حالیہ ڈیزل معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور مجموعی اسٹریٹجک صورتحال میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اس اہم پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر توانائی کی منڈی اور دو طرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں موجود ٹرمپ انتظامیہ کو اس بات کی قوی امید ہے کہ اس ڈیزل معاہدے کے ذریعے ماسکو کو یوکرین کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن مذاکرات پر نرمی اختیار کرنے پر مائل کیا جاسکے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد سفارتی ذرائع سے تنازع کا حل تلاش کرنا ہے۔

اس حوالے سے روسی صدارتی ایلچی برائے سرمایہ کاری و اقتصادی تعاون کریل دیمترییف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں مزید اقتصادی تعاون کی راہیں ہموار کرے گا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی ایلچی نے واضح کیا کہ روس عالمی منڈیوں میں ڈیزل کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے کے لیے موجودہ پابندیوں سے متعلق پیدا ہونے والی تمام مشکلات پر کامیابی کے ساتھ قابو پالے گا۔

کریل دیمترییف کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض ڈیزل کی فراہمی تک ہرگز محدود نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی امریکا کے ساتھ وسیع پیمانے پر اقتصادی اور سرمایہ کاری کے کئی دیگر مواقع موجود ہیں جن سے فریقین فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

روسی حکام کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقتصادی تعاون سے نہ صرف روس اور امریکا بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں کو بھی بڑے پیمانے پر معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو عالمی تجارت کے لیے مثبت ثابت ہوں گے۔

امریکی صدر اس وقت ملک میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہرممکن اور فوری اقدامات کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

اس سلسلے میں امریکی صدر نے گزشتہ دنوں یہ باضابطہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ روس امریکا اور عالمی منڈیوں کو ڈیزل کی بلاتعطل سپلائی جاری رکھے گا۔

اس اہم معاہدے کے نفاذ کے لیے امریکا کو روس پر عائد اپنی بعض اہم پابندیوں میں نرمی کرنا پڑی ہے، اور ان میں وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو موجودہ ٹرمپ انتظامیہ نے خود عائد کی تھیں۔

دوسری جانب روس سے ڈیزل کی فراہمی کے اس نئے فیصلے پر یوکرین سمیت بعض یورپی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش اور شدید تنقید کا اظہار بھی کیا گیا ہے جو اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اٹلی کے وزیراعظم جارجیا میلونی نے روس اور امریکا کے اس ڈیزل معاہدے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور تنقید کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اطالوی وزیراعظم کا یہ ماننا ہے کہ یہ مبینہ اقدام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کی میز پر لانے کی تمام تر کوششوں کے بالکل برعکس ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق روس اور امریکا کے درمیان ڈیزل کی فراہمی کا یہ دوطرفہ معاہدہ صرف توانائی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک ہی محدود نہیں رہا۔

اسے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان مستقبل کے معاشی اور اقتصادی تعلقات، تجارتی پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور یوکرین جنگ کے پس منظر میں ایک اہم اور دور رس پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی لائنز اور قیمتیں ایک انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہیں، اور دنیا بھر کے ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے متعلقہ حکام اس معاہدے کے مختلف تکنیکی اور معاشی پہلوؤں پر مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس سے مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

آئندہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے دنیا کی بڑی معیشتوں اور بالخصوص یورپی منڈیوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں