برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا ایک نیا اور غیر رسمی انداز سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے جس میں وہ روایتی سفارتی پروٹوکول کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے فرائض سے ہٹ کر ایک انوکھا اور خوشگوار قدم اٹھاتی ہوئی دکھائی دیں۔
موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق موصوفہ نے رمضان المبارک کے اختتام اور عید کے بابرکت موقع پر اپنے رہائشی عملے کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے خصوصی طور پر کھانا تیار کیا اور سب کو حیران کر دیا۔
اس منفرد، دلچسپ اور خوشگوار موقع کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں برطانوی ہائی کمشنر کو باورچی خانے کے اندر محنت کرتے اور مختلف قسم کے پکوان بناتے ہوئے بڑی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کے مناظر سے یہ بھی بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف کھانا خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا بلکہ کھانے کی میز کو دیدہ زیب انداز میں سجانے میں بھی خود بھرپور حصہ لیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے محض کھانا بنا کر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ تمام عملے کے ارکان کو بڑے پرتپاک اور دوستانہ انداز میں اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی پیش کیا جو ان کی عاجزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس دوران انہوں نے اپنے رہائشی عملے کے ارکان کے ساتھ انتہائی خوشگوار اور پرسکون ماحول میں وقت گزارا اور کھانے سے متعلقہ امور اور مختلف دلچسپ موضوعات پر دوستانہ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
اس شاندار عمل کو رمضان کی برکتوں، باہمی احترام، محبت اور اپنائیت کے ایک خوبصورت ترین اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے سوشل میڈیا پر دیکھنے والوں کے دل فوری طور پر موہ لیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی ویڈیوز اور مناظر اس لیے بھی خاصی توجہ حاصل کرتے ہیں کیونکہ ان میں اعلیٰ سفارتی عہدوں اور اہم مناصب پر فائز شخصیات کا ایک بالکل مختلف اور بے تکلف پہلو سامنے آتا ہے۔
اس طرح کے خوشگوار اقدامات سے عام افراد اور دنیا بھر کے ناظرین کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے سفارت کار بھی اپنی مصروف ترین پیشہ ورانہ زندگی کے علاوہ کتنے ملنسار اور خوش مزاج ہو سکتے ہیں۔
اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد تمام صارفین کی جانب سے برطانوی ہائی کمشنر کے اس دوستانہ، انوکھے اور دل کو چھو لینے والے انداز کی پرزور انداز میں تحسین کی جا رہی ہے۔
مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے صارفین نے اس عمل کو ثقافتی ہم آہنگی، انسانیت دوستی اور باہمی محبت کی ایک بہترین اور روشن مثال قرار دیا ہے جو روایتی سفارتی حدبندیوں سے بالکل بالاتر ہے۔
رمضان المبارک کے اس پرمسرت اختتام پر عملے کے لیے اس طرح کی خصوصی سرپرستی اور پرتپاک میزبانی نے تمام ملازمین کے لیے بھی اس عید کے تہوار کو ہمیشہ کے لیے انتہائی یادگار بنا دیا۔
اس پوری تقریب اور خوشگوار گہما گہمی کے دوران عملے کے ارکان نے بھی اس غیر متوقع، انوکھے اور خوشگوار سرپرائز پر اپنے انتہائی مثبت جذبات کا اظہار کیا اور ہائی کمشنر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
اس طرح کے مثبت اقدامات نہ صرف دفاتر، اداروں یا رہائش گاہوں میں دن رات محنت سے کام کرنے والے نچلے طبقے کے افراد کا حوصلہ بڑھاتے ہیں بلکہ ان کے درمیان باهمی تعلقات کو بھی مزید تقویت دیتے ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر کا یہ خوشگوار رویہ سفارتی حلقوں میں بھی زیر بحث ہے جہاں اس کو عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے اور روایتی رکاوٹوں کو توڑنے کی ایک منفرد اور کامیاب کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں