اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے اندر غیرقانونی شیشہ کیفوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت عالیہ نے سخت آبزرویشن دیتے ہوئے واضح کیا کہ ضابطہ کار اور قواعد کی تیاری تک شہر میں شیشہ کیفے چلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی کارروائی کے دوران ریمارکس دیے کہ کم عمر بچوں کو شیشہ پینے کی لت میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی کارروائی کے لیے جانے والے مجاز حکام کو نجی ملکیت کا عذر پیش کرکے اندر داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔
عدالت نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دوپہر 2 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور ہدایت کی کہ دونوں اعلیٰ ضلعی افسران عدالت میں یہ بیانِ حلفی جمع کرائیں کہ شہر میں کوئی بھی غیرقانونی شیشہ کیفے فعال نہیں ہے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شیشہ کیفوں کو ضابطے میں لانے کے لیے مسودہ قواعد تیار کرکے حتمی منظوری کے لیے حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے، جن کی منظوری جلد متوقع ہے تاکہ اس کاروبار کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک متعلقہ قوانین اور ضوابط کی باقاعدہ منظوری عمل میں نہیں آتی، اس وقت تک تمام شیشہ کیفوں کو فوری طور پر بند رکھا جائے تاکہ اس قبیح فعل کی مزید حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ عدالت کے گزشتہ حکم کا بعض عناصر نے غلط مطلب لیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جیسے عدالت نے شیشہ کیفے چلانے کی عام اجازت دے دی ہے، جس سے عدالتی احکامات کی ساکھ متاثر ہوئی۔
عدالت نے واضح کیا کہ قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں غیرقانونی سرگرمیوں کو کیسے جاری رہنے دیا جا سکتا ہے، کیونکہ بچوں کو اس جان لیوا عادت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی سے روکا جا رہا ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے سابقہ ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ عدالت شیشہ کیفوں پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکی ہے، لہذا اس غیرقانونی سرگرمی کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
ڈائریکٹر لیگل آئی جی آفس نے بھی عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ اگر متعلقہ قانون اور قواعد موجود نہیں ہیں تو اس نقصان دہ سرگرمی کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کا بھی حوالہ دیا گیا۔
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف کارروائیوں پر مبنی تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جس میں پولیس پر لگائے جانے والے غفلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔
پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 جولائی 2026 کے دوران قانون شکنی پر شہر کے 10 تھانوں میں کل 28 مقدمات درج کیے گئے، اور شیشہ نوشی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پہلے مرحلے میں 119 ملزموں کو نامزد کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 16 جولائی سے 7 ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں مزید 61 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ عدالتی احکامات کی روشنی میں 13 تھانوں کی حدود میں کارروائیاں کرتے ہوئے 163 ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا گیا۔
آئی جی اسلام آباد کے جمع کردہ جواب میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت میں منشیات اور شیشہ کیفوں کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں، اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 26 اپریل 2024 سے نشہ اب نہیں کے عنوان سے آگاہی مہم بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، پبلک پارکس اور بس اڈوں کے اطراف انٹیلی جنس بیسڈ گشت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسپیشل برانچ کو نئے اور پرانے تمام شیشہ کیفوں کی نشاندہی اور معلومات اکھٹی کرنے کی خصوصی ذمے داری سونپی گئی ہے، اور نگرانی کے لیے تھانہ نیز سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تجارتی مراکز اور اہم مقامات پر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی پروجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، اور شیشہ کیفوں کے خلاف خفیہ گاہکوں کی مدد سے بھی کامیاب آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عام شہری انفو ون ایپ اور دیگر دستیاب ذرائع کے ذریعے غیرقانونی شیشہ کیفوں کی اطلاع براہ راست فراہم کرسکتے ہیں، اور ان تمام کارروائیوں کی مرکزی سطح پر مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ محکمہ پولیس پر لگائے جانے والے غفلت اور لاپرواہی کے تمام الزامات حقائق کے برعکس اور بے بنیاد ہیں، اس لیے شیشہ کیفوں سے متعلق دائر کی گئی اس درخواست کو اب نمٹا دیا جائے۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ وہ دوپہر کو مقررہ وقت پر پیش ہوں، اور ان کے حلف نامے آنے کے بعد اس اہم معاملے پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں