پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت اچانک ناساز ہو گئی ہے۔
وہ اس وقت جیل کے اندر اپنی بیرک میں معمول کی چہل قدمی کر رہے تھے جب انہیں اچانک شدید چکر آ گیا۔
چکر آنے کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور زمین پر گر پڑے، جس کے باعث انہیں چوٹیں آئیں۔
وکیل بیرسٹر تیمور ملک کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں شاہ محمود قریشی کے گھٹنے اور بازو پر چوٹیں لگی ہیں۔
واقعے کے بعد جیل حکام کی جانب سے فوری طور پر ان کے طبی ٹیسٹ کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
جیل حکام نے شاہ محمود قریشی کے خون کے نمونے حاصل کر لیے ہیں جنہیں ٹیسٹ کے لیے شوکت خانم اسپتال بھجوایا گیا ہے۔
ان کے وکیل نے مزید بتایا ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے طبی مشورے کی روشنی میں اقدام کیے جا رہے ہیں۔
سابق وزیر خارجہ کے سی ٹی اسکین اور ضروری علاج معالجے کے حصول کے لیے عدالت میں باقاعدہ درخواست دائر کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بھی کوٹ لکھپت جیل میں قید شخصیات کی صحت کے حوالے سے مختلف واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
چند روز قبل اسی جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نورین خان نیازی کی طبیعت بھی اچانک خراب ہو گئی تھی۔
طبیعت بگڑنے پر نورین خان نیازی کو جیل سے فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔
اسپتال منتقلی کے بعد ان کے ابتدائی طبی ٹیسٹ کیے گئے تھے تاکہ مرض کی نوعیت معلوم کی جا سکے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں قیدیوں کی نظر بندی سے متعلق امور پر بھی سماعتیں ہو چکی ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبہر گل خان نے اس سلسلے میں دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت میں زیر سماعت مقدمات کے دوران درخواست گزاروں کی نمائندگی وکیل رانا مدثر عمر نے کی۔
دورانِ سماعت وکلا کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ نظر بندی کا نوٹیفیکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔
تاہم لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے ڈاکٹر عظمی خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔
قانونی ماہرین اور وکلا کی ٹیمیں جیل میں قید رہنماؤں کی صحت اور عدلیتی کارروائیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
متعلقہ حلقوں کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے طبی معائنے اور رپورٹس کے بعد مزید قانونی و طبی اقدامات متوقع ہیں۔



اپنی رائے دیں