مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
امریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیابابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس کی اہم ریاستوں میں کامیابیڈبلیو ٹی اے فائنلز: رائبی کینا اور کو کو گاف ایک ہی گروپ میں شاملآبنائے ہرمز پر کشیدگی: ایران کا امریکی جواب مسترد، امریکی صدر کی فضائی کارروائی کی تصدیقفل فوڈن اپنی بہترین فارم کی بحالی کے لیے پرعزمعبدال السید امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹر منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئےغزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر آدم حموی امریکی کانگریس کے رکن منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیکیشا لانس باٹمز امریکی ریاست جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخبامریکی انتخابات: ڈیموکریٹک امیدواروں نے جنوبی اور شمالی کیرولائنا میں نشستیں جیت لیںلیگ آف لیجنڈز ورلڈ چیمپئن شپ: انوکٹس گیمنگ سیمی فائنل میں پہنچ گئییورپ میں پروازوں اور بحری جہاز کو بم کی دھمکیاں، تمام الرٹ جھوٹے نکلےچیمپئنز لیگ: مانچسٹر یونائیٹڈ کی روما کے خلاف شاندار کم بیک فتحچیمپیئنز لیگ: بارسلونا کی ایستون ولا کے خلاف 0-3 سے شاندار کامیابینیویارک جائنٹس اور کارنر بیک گریگ نیوسم کے درمیان 46 ملین ڈالر کا معاہدہملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں روسی حریف کو شکست دے دیامریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعینات
سائنس و ٹیکنالوجی

بابا وانگا کی پیشگوئی اور خلا سے موصول سگنل، حقیقت کیا ہے؟

بلغاریہ کی نجومی سے منسوب نومبر 2026 میں خلائی مخلوق کی آمد کی افواہیں اور سائنسی حقائق زیرِ بحث ہیں۔

بلغاریہ کی مشہور نجومی بابا وانگا سے منسوب ایک پیشگوئی سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نومبر 2026 میں ایک دیوہیکل خلائی جہاز زمین کی فضا میں داخل ہوگا اور انسانیت کا خلائی مخلوق سے رابطہ قائم ہوگا۔ یہ موضوع اس وقت انٹرنیٹ پر بحث کا مرکز بنا ہوا ہے جب حال ہی میں خلا سے کچھ پراسرار سگنلز موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سائنسی تحقیقات کے مطابق چینی ماہرین کی سربراہی میں ایک ٹیم نے زمین سے تقریباً 238 نو ری سال کے فاصلے پر واقع ستارے کے نظام K2-155 کی سمت سے ایک ریڈیو سگنل دریافت کیا ہے۔ یہ سگنل چین کی طاقتور ریڈیو دور بین 'فاسٹ' کے پرانے ڈیٹا کا حصہ ہے جس کی فریکوئنسی میں وقت کے ساتھ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ سگنل خلائی مخلوق کی موجودگی کا ثبوت ہرگز نہیں ہے کیونکہ اس طرح کے سگنلز قدرتی کائناتی مظاہر کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ ڈیٹا 2021 میں ریکارڈ کیا گیا تھا، لہذا اسے نومبر 2026 میں کسی خلائی جہاز کی آمد سے جوڑنا سائنسی اعتبار سے درست نہیں ہے۔

بابا وانگا کی پیشگوئیوں کے حوالے سے محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نومبر 2026 میں خلائی مخلوق کی آمد سے متعلق ان کی کسی بھی مستند تحریر یا ریکارڈ کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ اکثر ایسی پیشگوئیاں ان کے انتقال کے برسوں بعد ان کے نام سے منسوب کر کے پھیلائی جاتی ہیں۔

بابا وانگا، جنہیں 'بلقان کی نوسٹراڈیمس' بھی کہا جاتا ہے، 1911 میں پیدا ہوئیں اور 1996 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے عقیدت مند ماضی میں ان سے منسوب کئی واقعات کی پیشگوئیوں کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی تاریخی تصدیق کبھی ممکن نہیں ہو سکی۔

نجومی کے مداحوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ماضی میں امریکا میں نائن الیون حملوں، روسی آبدوز کرسک کے ڈوبنے، اندرا گاندھی کے قتل اور باراک اوباما کے صدر بننے جیسی اہم عالمی شخصیات اور واقعات کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کی تاریخ کا تعین بھی پہلے ہی کر لیا تھا۔

تاہم، ان تمام دعوؤں کے باوجود، مورخین اور محققین کا ماننا ہے کہ ان پیشگوئیوں کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتا۔ زیادہ تر پیشگوئیاں ان کی وفات کے کافی عرصے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہوئیں، جس کی وجہ سے ان کی صداقت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں، جب خلا سے سگنل موصول ہونے کی خبریں عام ہوئیں تو لوگوں نے اسے بابا وانگا کی مبینہ پیشگوئیوں سے جوڑنا شروع کر دیا۔ سائنسی برادری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سگنل کا تجزیہ 2021 کے مشاہدات پر مبنی ہے اور اس کا موجودہ سال کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

چینی ریڈیو دور بین 'فاسٹ' دنیا کی سب سے بڑی اور حساس دوربینوں میں شمار ہوتی ہے، جو کائنات کے دور دراز حصوں سے آنے والی لہروں کو ریکارڈ کرتی ہے۔ اس دور بین سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کائنات کے اسرار کو سمجھنے میں مددگار تو ہے، لیکن اسے کسی بھی غیر زمینی مخلوق کی آمد کا اشارہ قرار دینا قبل از وقت ہے۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس، سائنسی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی خلائی دریافت کو تصدیق کے لیے طویل سائنسی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نومبر 2026 کے حوالے سے کی جانے والی پیشگوئی محض ایک انٹرنیٹ میم یا افواہ معلوم ہوتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

آخر میں، یہ بات اہم ہے کہ کسی بھی غیر مصدقہ پیشگوئی پر یقین کرنے کے بجائے سائنسی حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ بابا وانگا کے نام سے منسوب یہ حالیہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ پر معلومات کی تیزی سے ترسیل کے دوران غیر تصدیق شدہ دعوے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں