ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کردہ سات شرائط پر امریکی ردعمل کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران کے مطالبات کو مکمل اور واضح طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے جزیرے قشم پر فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر نے اسے ایک معمولی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک اینٹی ایئر کرافٹ تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جواب ایران کے حقوق اور مطالبات کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اسی صورت میں کھولی جائے گی جب امریکہ تمام سات شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ قطر اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی حملہ دفاعی نوعیت کا تھا جو ایک امریکی طیارے پر ایرانی فائرنگ کے ردعمل میں کیا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ فی الحال کسی بڑی جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
دریں اثنا، خطے میں تجارتی جہاز رانی کو بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے ساحلی گاؤں لیمہ کے قریب ایک آئل ٹینکر کے انجن روم کو دو نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بندر خمیر کے اوپر دو امریکی ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چار آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آئے ہیں جبکہ دو دیگر جہازوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی عسکری قیادت کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلیج میں موجود زیرِ سمندر کیبلز اور یورپی ممالک کے مفادات بھی اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال سے مطمئن ہیں اور انہیں فی الحال کسی بڑی جنگی مہم کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے جوہری ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ تیل سمندری راستے سے پہنچایا جاتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل ناکام ہوتا ہے تو خطے میں عسکری تصادم کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔




اپنی رائے دیں