مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 12:58
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمییوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلخیبر پختونخوا میں جدید مائننگ ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے چینی کمپنی سے اہم معاہدہلاہور میں ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں پر چالان کی بجائے مقدمات کا فیصلہامریکی ریاست نیو میکسیکو میں جیفری ایپسٹین کے وکیلوں کیخلاف مقدمہ دائرامریکا میں اسکواش ٹورنامنٹ، نور زمان کی مصری کھلاڑی کو شکستایشین پیرا گیمز: حیدر علی نے ڈسکس تھرو میں چاندی کا تمغہ جیت لیامعروف موسیقار وقار علی پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا، مداحوں سے دعاؤں کی اپیلتہران میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھانے والی آرٹ تنصیب نصبنور زمان نے عالمی نمبر ۴ کو شکست دے کر سلیکون ویلی اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائیکراچی: صدر موبائل مارکیٹ میں نوسرباز کی انوکھی واردات، لاکھوں کا مال لوٹ لیابیرون ملک یوٹیوبرز نے پی ٹی آئی کو تباہ کر دیا، خواجہ آصف کا بیانمظفر آباد کی فتح کا دن، کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد تازہ
دنیا

تہران میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھانے والی آرٹ تنصیب نصب

ایران کے دارالحکومت کے تجریش اسکوائر میں نصب اس طنزیہ آرٹ ورک میں امریکی صدر کا روپ دھارے ایک اداکار کو مصنوعی جیل میں دکھایا گیا ہے۔

تہران میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھانے والی آرٹ تنصیب نصب

ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک منفرد اور طنزیہ آرٹ تنصیب نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا ہے۔ یہ تنصیب تہران کے شمالی علاقے تجریش اسکوائر میں نصب کی گئی ہے۔

اس آرٹ ورک میں ایک اداکار کو ڈونلڈ ٹرمپ کا روپ دھارے ہوئے ایک مصنوعی جیل کی کوٹھڑی میں چہل قدمی کرتے اور بیٹھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تنصیب کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے۔

تنصیب پر ایک نمایاں پیغام درج ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ منظر نہ دیکھنا ایک جرم ہے‘۔ اس کے علاوہ وہاں دیگر پیغامات بھی آویزاں کیے گئے ہیں جن میں ستمبر کے اوائل میں ایران کے جنوبی قصبے سرکیک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

مقامی شہریوں کی جانب سے اس تنصیب پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تہران کی ایک رہائشی فرزانہ عرب زادہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منظر کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کیے گئے اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی ہے اور ایرانی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ آرٹ ورک اسی عوامی جذبات کی عکاسی کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین تعلقات طویل عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی محاذ پر اکثر و بیشتر تلخ بیانات کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جس کے اثرات خطے کی صورتحال پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس قسم کی آرٹ تنصیبات ایران میں عوامی سطح پر احتجاج یا اپنے موقف کے اظہار کے لیے وقتاً فوقتاً استعمال کی جاتی ہیں۔ تجریش اسکوائر تہران کا ایک مصروف ترین مقام ہے، جہاں اس تنصیب کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان جاری سرد جنگ اور سفارتی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تہران کی جانب سے اس تنصیب کے ذریعے عالمی برادری کو اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ابھی تک امریکی حکام کی جانب سے اس آرٹ تنصیب پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر بحث کی جا رہی ہے۔

ایران کی جانب سے اس سے قبل بھی امریکی پالیسیوں کے خلاف مختلف طریقوں سے احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا رہا ہے۔ یہ آرٹ ورک اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔

تہران کے حکام نے اس تنصیب کی تنصیب کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ اسے عوامی مقامات پر نصب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایران کے سخت گیر حلقوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

مستقبل میں اس طرح کی مزید سرگرمیوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے۔ یہ تنصیب تہران کی سڑکوں پر ایک مستقل موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

اس پوری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔ آرٹ کے ذریعے احتجاج کا یہ طریقہ کار کافی پرانا اور موثر سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں