مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:17
بریکنگ
کراچی: جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی گرفتاریوں پر امیر شہر کا ردعملاسلام آباد: اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والا سفاک باپ گرفتاررواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفربلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات کا درجہ حرارت ایک ڈگری ریکارڈجنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل اسٹیو اسمتھ کی فٹنس مشکوکلاہور میں سگریٹ کے ڈبوں میں ریت بھر کر فروخت کرنے والا نوسرباز گرفتاروزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکململک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحانایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیلنریندر مودی کی 33 سال قبل وفات پانے والے سادھو کے ہولوگرام سے گفتگو وائرلحارث رؤف نے بگ بیش لیگ کیلئے ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہ کر لیاکراچی کے علاقے کورنگی میں گھر کے اندر فائرنگ سے بیس سالہ خاتون جاں بحقاسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گاعالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کو سپین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ مل گیاپانچ روز کی مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہشیشہ سگریٹ سے کم نقصان دہ نہیں، طبی ماہرین کا اہم انکشافعدالتی حکم کے باوجود پی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی سخت سرزنش
شوبز

بس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفر

کنڑ سنیما کے معروف اداکار یش کی ابتدائی مشکلات، تھیٹر کے سفر اور فلمی دنیا میں کامیابی کی کہانی۔

بس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفر

کنڑ فلم انڈسٹری کے نامور اداکار یش کا تعلق ایک ایسے عام گھرانے سے تھا جہاں شوبز سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کے والد بنگلورو میں میونسپل بس سروس کے ایک ڈرائیور تھے جو روزانہ کی بنیاد پر صرف 14 روپے کمایا کرتے تھے۔ گھر کے تنگدست مالی حالات کے باعث یش کو اپنی ابتدائی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور گھر کی کفالت میں ہاتھ بٹانے کے لیے وہ کریانے کی دکان پر بھی کام کیا کرتے تھے۔

ان کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر کوئی سرکاری افسر بنیں لیکن نوعمری سے ہی یش کے دل میں اداکاری اور سٹیج پرفارمنس کا گہرا شوق پل رہا تھا۔ اسکول اور کالج کے دنوں میں وہ مختلف ڈراموں اور رقص کے مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے جہاں ناظرین کی داد اور تالیاں ان کے اس خواب کو مزید پختہ کرتی گئیں۔

وقت کے ساتھ یہی شوق ایک پکا ارادہ بن گیا اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی فلمی اداکاری کے لیے وقف کر دیں۔ گھر والوں کو ان کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا لیکن والد نے واضح کر دیا کہ اگر وہ اپنی مرضی کی دنیا میں قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں مگر ناکامی کی صورت میں واپس آ کر وہی کرنا ہوگا جو گھر والے کہیں گے۔

فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کی غرض سے جب یش نے بنگلورو کا رخ کیا تو ان کی جیب میں محض 300 روپے تھے۔ ایک بڑے اور اجنبی شہر میں قدم رکھتے ہی وہ خوف زدہ تو ہوئے مگر اپنے عزم پر قائم رہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ہم ہار کر واپس لوٹے تو والدین انہیں دوبارہ کبھی باہر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کی زندگی میں اصل تبدیلی اس وقت آئی جب ان کی ملاقات ننجنڈا نامی دوست سے ہوئی جنھوں نے یش کو باقاعدہ تھیٹر کی دنیا سے متعارف کروایا۔ دیومالائی کرداروں کے روایتی ناٹکوں سے نکل کر وہ بینکا تھیٹر گروپ کا حصہ بنے جہاں سماجی موضوعات پر مبنی ڈراموں نے ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تھیٹر کے تجربے نے ان کی شخصیت کی بھرپور تشکیل کی اور انھیں فنِ اداکاری کی باریکیوں سے آگاہ کیا۔ یش اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ تھیٹر نے ہی ایک عام بس ڈرائیور کے بیٹے کو ایک پراعتماد اداکار بنایا اور انہیں زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کا شعور عطا کیا۔

ٹی وی سکرین پر ان کا پہلا بڑا تعارف مقبول ڈرامے نندا گوکلا کے ذریعے ہوا جو 2004 سے 2007 کے درمیان نشر ہوا۔ اس سیریل میں ان کی اور اداکارہ رادھیکا پنڈت کی جوڑی کو ناظرین کی طرف سے بے پناہ پذیرائی ملی اور یہی جوڑی بعد میں ان کے فلمی کریئر کی مضبوط بنیاد بنی۔

2007 میں انہوں نے فلم جمباڈا ہدوگی کے ذریعے بڑے پردے پر قدم رکھا لیکن انھیں اصل شناخت 2008 میں ریلیز ہونے والی فلم موگینا مناسو سے ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم میں یہ کردار کسی اور اداکار کو ملنا تھا جو موٹر سائیکل حادثے کے باعث زخمی ہو گیا اور یوں یہ موقع یش کے ہاتھ آ گیا۔

اس فلم میں شاندار اداکاری پر انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا جس نے ان کے لیے فلمی راستے ہموار کر دیے۔ اس کے بعد آنے والی فلموں جیسے کہ گوگلی اور مسٹر اینڈ مسز راماچاری نے انہیں نوجوانوں بالخصوص کالج کے طلبا میں سپر سٹار کی حیثیت دلوا دی۔

ان کے کریئر کا سب سے بڑا موڑ کے جی ایف نامی فلم بنی جس کی ملک گیر کامیابی نے انہیں سرحدوں سے باہر بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس فلم کے بعد بالخصوص ہندی بولنے والے علاقوں میں ان کے مداحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا اور وہ ایک قومی سطح کے ستارے بن گئے۔

موجودہ دور میں وہ انڈین سنیما کے سب سے بڑے اور مہنگے پراجیکٹس میں سے ایک میں اہم کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ ہدایت کار نتیش تیواری کی آنے والی بڑی فلم میں وہ ایک انتہائی پیچیدہ اور تاریخی کردار نبھاتے دکھائی دیں گے جس کا مداحوں کو بے صبری سے انتظار ہے۔

اس آنے والی فلم رامائن میں وہ راون کا اہم کردار نبھا رہے ہیں اور اس کے شریک پروڈیوسرز میں بھی شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ کردار اس لیے بھی بہت زیادہ چیلنجنگ ہے کیونکہ ہر شخص اس سے واقف ہے اور لوگ روایتی طور پر اس سے سخت نفرت کرتے ہیں۔

فلمی حلقوں اور ناقدین کے مطابق یش کی یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ان کی کڑی محنت، مسلسل جدوجہد اور تھیٹر کے دنوں کی ریاضت کا ثمر ہے۔ ایک عام بس ڈرائیور کے بیٹے سے لے کر ملک کے صف اول کے سپر سٹار بننے تک کا یہ سفر ہزاروں نوآموز فنکاروں کے لیے ایک بڑی مثال ہے۔

شوبز کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں