پاکستان کے ابھرتے ہوئے گلوکار ثمر جعفری کو حیدرآباد میں منعقدہ ایک کنسرٹ کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی پرفارمنس ادھوری چھوڑ کر اسٹیج سے واپس جانا پڑا۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق کنسرٹ کے دوران ہجوم کا رویہ انتہائی نامناسب ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہاں موجود شرکاء بالخصوص خواتین اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کنسرٹ کے دوران صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی تھی، جس کے بعد گلوکار نے اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ثمر جعفری نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے مداحوں کو اس واقعے سے آگاہ کیا اور اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی جان و مال کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے تھے۔
گلوکار نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ حیدرآباد کے مداحوں کے لیے پرفارم کرنے کے لیے بے حد پُرجوش تھے، تاہم ہجوم کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے انہیں یہ مشکل فیصلہ لینے پر مجبور کر دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی تقریب میں سیکیورٹی سب سے اہم ہوتی ہے، اور جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو منتظمین اور فنکار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ثمر جعفری کی ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کنسرٹ میں موجود خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح تھی، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
گلوکار نے اپنے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان کی مجبوری کو سمجھیں گے، کیونکہ اس طرح کے ہنگامی حالات میں کنسرٹ کو جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران مختلف شہروں میں ہونے والے کنسرٹس میں ہجوم کے بے قابو ہونے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر فنکار برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی ثمر جعفری کے اس اقدام کی حمایت کی ہے اور کنسرٹس کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہ ہونے پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ثمر جعفری نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ مستقبل میں اپنے مداحوں کے ساتھ دوبارہ رابطے میں رہیں گے اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔
اس واقعے کے بعد سے شوبز حلقوں میں کنسرٹس کے دوران سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت کرنے کی بحث بھی شروع ہو گئی ہے، تاکہ فنکاروں اور شائقین دونوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حیدرآباد کے مقامی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس واقعے کے چرچے بدستور جاری ہیں۔





اپنی رائے دیں