پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کی جانب سے اس اقدام کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک میں ایک آزاد جمہوری نظام اور ایک خود مختار عدلیہ کے مضبوط حامی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں جمہوری حکومت کے اختیارات کو سلب کرنا اور ایمرجنسی نافذ کرنا غیر قانونی ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ہی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے ارسال کردہ ایڈوائس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس سمری پر دستخط کیے تھے۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد ملک میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا باضابطہ نفاذ عمل میں آیا تھا جس پر سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہو چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا یہ ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ملک کے جمہوری ڈھانچے اور آئین کی روح کے منافی ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے سیاسی حقوق کے دفاع کے لیے تمام قانونی دروازے کھٹکھٹائیں گے۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں اس فیصلے کے قانونی جواز کو چیلنج کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے ملکی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک طرف وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتیں اپنے فیصلوں کا دفاع کر رہی ہیں تو دوسری طرف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس مقدمے کے دوران عدالت میں دونوں جانب سے اہم آئینی دلائل دیے جانے کی توقع ہے۔
تحریک انصاف کے وکلاء نے اس آئینی پٹیشن کی تیاری مکمل کر لی ہے اور اسے بہت جلد سماعت کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی اس قانونی جنگ کو آخری حد تک لے کر جائیں گے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں حکومتی عہدیداروں اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس صورتحال پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ یہ فیصلے ملک کے مفاد اور امن و امان کی بہتر صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ ریاست کے امور بہتر طریقے سے چلائے جا سکیں۔
ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں یہ پیشرفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے قبل بھی پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان مختلف امور پر کشمکش جاری رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ اس درخواست پر کیا کارروائی کرتی ہے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت کی جانب سے کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔
عوام اور سیاسی مبصرین کی نظریں اب عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کی کارروائی پر مرکوز ہیں کیونکہ اس مقدمے کے فیصلے سے آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین ہونے میں مدد ملے گی۔ تحریک انصاف کے کارکنان بھی اس قانونی جنگ میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور عدلیہ سے انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قانونی چارہ جوئی کے دوران آئین پاکستان کے آرٹیکلز اور پچھلے عدلیہ کے فیصلوں کو بھی بنیاد بنایا جائے گا۔ تحریک انصاف کی قانون ٹیم اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کسی بھی صوبے یا مرکز میں اس طرح کے اقدامات کے لیے آئینی تقاضوں کا پورا ہونا ناگزیر ہے جو اس معاملے میں نظر انداز کیے گئے۔
پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی اس درخواست کے بعد قانونی حلقوں میں بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس نوعیت کے صدارتی احکامات کو عدالت میں کس دائرہ اختیار کے تحت پرکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین قانون کا یہ ماننا ہے کہ عدالت کو اس کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایک اہم تشریح کرنا ہوگی۔
عوام کی بڑی تعداد بھی ان تمام قانونی اور سیاسی پیشرفت کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ ملکی معیشت اور عام زندگی پر ان فیصلوں کے براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تمام نگاہیں اب پشاور ہائی کورٹ کے اگلے اقدامات اور اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ پر لگی ہوئی ہیں۔

اپنی رائے دیں