پکپٹن کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں 11 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ المناک واقعہ ایک مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیش آیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس قدر شدید تھا کہ موقع پر ہی متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
امدادی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال میں طبی عملے کی جانب سے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت اور قانونی کارروائی کا عمل شروع کیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سرکاری بیان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر جاری اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا کی۔
اس قسم کے حادثات اکثر شاہراہوں پر تیز رفتاری یا ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا عمل بھی متوقع ہے۔
مقامی پولیس اور ٹریفک حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ حادثے کے بعد سڑک پر ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اتنا شدید تھا کہ بس اور ٹریلر کو کافی نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی۔
انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر کے متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو بھی اطلاع دی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے وقتاً فوقتاً ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ تاہم، شاہراہوں پر احتیاطی تدابیر کا فقدان اکثر ایسے سانحات کا سبب بنتا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کی جانب سے بھی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حادثے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی جائیں گی۔



اپنی رائے دیں