پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اور اہم قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر 2026 سے کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک کے ان اضلاع میں بچوں کی قوت مدافعت کو بڑھانا ہے جہاں پولیو کے وائرس کا خطرہ موجود ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس خصوصی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مہم کے لیے ملک بھر کے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے 97 اضلاع کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تر انتظامی اور حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔
صوبائی سطح پر تقسیم کے حوالے سے پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ اسی طرح سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کو مہم میں شامل کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کے 2 منتخب اضلاع میں بھی مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں 1 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق یہ مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔
پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اداروں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔
ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کے دوران سیکیورٹی اور دیگر لاجسٹک انتظامات کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ پولیو ورکرز کی تربیت اور ان کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔
پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں کمی لانے کے لیے گزشتہ برسوں میں مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم مکمل خاتمے تک مہمات جاری رہیں گی۔


اپنی رائے دیں